Friday, April 3, 2026

مہنگائی کا تازیانہ اور خالی دسترخوان: حکمرانو! عوام کی قربانی نہیں، اپنی عیاشیوں کی قربانی دو تحریر: ندیم سہیل

 

تصور کریں اس باپ کا، جو رات کے اندھیرے میں پیٹرول پمپ پر 136 روپے کے اضافے کی خبر سن کر اپنی موٹر سائیکل وہیں چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ گھر جا کر بچوں کے لیے آدھا کلو دودھ بھی لے سکے۔ کیا یہ محض ایک معاشی فیصلہ ہے یا اس ملک کے غریب کے جینے کے حق پر آخری ضرب؟ جب ریاست کا خزانہ خالی ہو تو کٹوتی عوام کے دسترخوان سے نہیں بلکہ حکمرانوں کے پروٹوکول سے ہونی چاہیے۔

ہمارے اعمال اور معاشی زوال: قرآنی انتباہ

موجودہ معاشی بحران محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی تنبیہ بھی ہے۔ قرآنِ کریم صاف الفاظ میں کہتا ہے:

"اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، اور وہ بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔"   سورۃ الشوریٰ: 30

ہم نے اجتماعی طور پر اللہ کے احکامات سے روگردانی کی۔ سود (Riba)، جسے اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے، اسے اپنی معیشت کی بنیاد بنا لیا۔ جب جنگ اللہ سے ہو تو جیت کی امید کیسی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔" (سورۃ البقرہ: 276)   آج ہماری بے برکتی کی سب سے بڑی وجہ یہی سودی نظام اور ناپ تول میں کمی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، اللہ اس پر قحط، سخت محنت (معاشی تنگی) اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کر دیتا ہے۔"   ابنِ ماجہ

حکمرانوں کی ذمہ داری: عوام 'قربانی کا بکرا' کیوں؟

وقت آ گیا ہے کہ مقتدر طبقہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ غریب عوام کے نحیف کندھوں پر ڈال کر خود کو 'مجبور' ظاہر کرنا چھوڑ دے۔ عوام کو "قربانی کا بکرا" بنا کر ان سے مزید ٹیکس مانگنے کے بجائے، حکمرانوں کو اب ’قرونِ اولیٰ‘ کے مثالی حکمرانوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔

سیدنا عمر فاروق (رض) کا دورِ خلافت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جب مدینہ میں "عام الرمادہ" (قحط کا سال) آیا، تو آپؓ نے قسم کھائی تھی کہ جب تک میری رعایا کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملے گا، میں گھی اور گوشت کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ خلیفہ وقت کا پیٹ بھوک کی وجہ سے قراقر (آوازیں) کرتا تھا لیکن وہ اپنے عوام کے ساتھ فاقے میں شریک تھے۔ آپؓ فرماتے تھے:

"اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر (رض) سے اس کا حساب لیا جائے گا۔"

آج کے حکمرانوں کو گریبان میں جھانکنا ہوگا؛ کیا ان کے شاہانہ پروٹوکول، اربوں روپے کی رہائش گاہیں اور مفت پیٹرول کی عیاشیاں اس 'خوفِ خدا' کی عکاسی کرتی ہیں؟

بحران سے نکلنے کا راستہ: قرآن و سنت کا حل

معاشی دلدل سے نکلنے کے لیے ہمیں آئی ایم ایف کے بجائے "رجوع الی اللہ" کی طرف دیکھنا ہوگا:

  1. استغفار اور توبہ: قرآن کہتا ہے کہ استغفار کرو، اللہ آسمان سے رزق کی بارشیں برسا دے گا۔ (سورۃ نوح)
  2. سودی نظام کا خاتمہ: جب تک سودی زنجیریں نہیں ٹوٹیں گی، معیشت کبھی آزاد نہیں ہوگی۔
  3. عدلِ فاروقی کا نفاذ: حکمران اپنی مراعات اور شاہ خرچیاں ختم کر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا عملی ثبوت دیں۔ مفت بجلی، مفت پیٹرول اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہی معاشی اصلاحات کا پہلا قدم ہونا چاہیے۔
  4. امانت و دیانت: حدیثِ نبویؐ ہے: "الکاسب حبیب اللہ" (محنت سے کمانے والا اللہ کا دوست ہے)۔ رشوت اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ برکت کا سبب بنے گا۔

نتیجہ فکر

اے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگو! یاد رکھو کہ کرسی آنی جانی ہے، لیکن وہ آہیں جو ایک مجبور باپ کے سینے سے نکلتی ہیں، وہ عرش کو ہلا دینے والی ہوتی ہیں۔ اب وقت "قربانی مانگنے" کا نہیں بلکہ خود "قربانی دے کر مثال بننے" کا ہے۔ اگر حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں قربان کر دے تو یہ قوم اپنے خون کا آخری قطرہ بھی ملک پر نثار کرنے کو تیار ہو جائے گی۔ لیکن اگر صرف غریب کا چولہا بجھایا گیا، تو یاد رکھیے کہ بھوک جب حد سے بڑھتی ہے تو وہ ہر نظام کو بہا لے جاتی ہے۔

ابھی وقت ہے کہ توبہ کی جائے اور عدل و سادگی کو اپنا شعار بنایا جائے۔