Thursday, March 26, 2026

اندھا اعتماد نہیں—اعتدال، بصیرت اور توکل کا راستہ تحریر: ندیم سہیل

 


تحریر: ندیم سہیل

تعارف: عصرِ حاضر کا المیہ

آج کا مسلمان معاشرہ ایک ایسے نازک موڑ پر ہے جہاں سیاسی وابستگی اور مذہبی عقیدت نے "شخصیت پرستی" کی شکل اختیار کر لی ہے۔ لوگ اپنے پسندیدہ رہنماؤں کو معصوم (Infallible) سمجھنے لگے ہیں۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ غیر مشروط اور کامل اطاعت صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے انبیاء علیہم السلام کے لیے ہے، کیونکہ انبیاء وحی الہی کے زیرِ اثر معصوم ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ کائنات کی ہر شخصیت سے خطا ممکن ہے۔

1. قرآن کی روشنی میں اصولِ اطاعت

قرآن مجید نے واضح کر دیا کہ دین کا مرکز شخصیت نہیں بلکہ اللہ کا پیغام ہے۔

"وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ..." (آل عمران: 144) محمد ﷺ صرف ایک رسول ہیں...” یہ آیت متنبہ کرتی ہے کہ ایمان کا تعلق کسی ذات کی موجودگی یا غیر موجودگی سے نہیں بلکہ اس پیغام سے ہے جو اللہ نے نازل کیا۔

تحقیق کا حکم: کسی بھی رہنما کی بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کرنے کے بجائے قرآن حکم دیتا ہے:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا..." (الحجرات: 6) اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو...”

2. حدیثِ مبارکہ: معیارِ بندگی

رسول اللہ ﷺ نے ہر قسم کی اندھی تقلید کا راستہ ان الفاظ میں بند فرما دیا:

"لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق" (مسند احمد) خالق کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔

آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ سچائی کو اپناؤ اور جھوٹ سے بچو (بخاری: 6094)۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے لیڈر کی بات کو سچائی کے ترازو پر پرکھیں، نہ کہ محض اس کی محبت میں اسے سچ مان لیں۔

3. تاریخ سے سبق: اندھی تقلید کے نتائج

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوموں نے اشخاص کو "رب" یا "معیارِ حق" بنایا، وہ تباہ ہوئیں۔

  • بنی اسرائیل: انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا تھا (سورہ التوبہ: 31)، یعنی ان کے ہر حلال کو حلال اور حرام کو حرام مانا، چاہے وہ اللہ کے حکم کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔
  • سامری کا فتنہ: حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عدم موجودگی میں لوگوں نے سامری کی بات پر اندھا اعتماد کیا اور بچھڑے کی پوجا شروع کر دی۔
  • یزید کا دور: بہت سے لوگوں نے بغیر تحقیق کے وقت کے حکمران کی غلط کاریوں کو "اطاعتِ امیر" کے نام پر قبول کیا، جس کا نتیجہ سانحۂ کربلا کی صورت میں نکلا۔

4. منصب، امانت اور حسنِ ظن

اگر اللہ تعالیٰ کسی کو عہدہ، اختیار یا حکمرانی عطا کرتا ہے، تو یہ اس کے لیے آزمائش اور لوگوں کے لیے ایک نظمِ ضبط ہے۔

  • امانت داری: اللہ کا حکم ہے کہ امانتیں ان کے مستحقین کو پہنچاؤ (النساء: 58)۔ حکمران پر لازم ہے کہ وہ عدل کرے۔
  • عوام کی ذمہ داری: ہمیں اپنے مقرر کردہ نمائندوں اور حکام کے بارے میں حسنِ ظن (اچھا گمان) رکھنا چاہیے جب تک ان کی برائی واضح نہ ہو جائے۔ نبی کریم ﷺ نے بدگمانی سے بچنے کا حکم دیا ہے (بخاری: 5143)۔
  • فیصلہ اللہ پر چھوڑیں: کسی کی نیتوں کا حال جاننا ہمارا کام نہیں۔ اگر کوئی حکمران یا لیڈر غلطی کرتا ہے، تو اس کا حتمی حساب اللہ کے سپرد ہے۔ ہمارا کام نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا ہے، جج بننا نہیں۔

5. جیسا معاشرہ، ویسے حکمران: اللہ کی سنت

اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ قوموں کی حالت کے مطابق ان پر لیڈر مسلط کرتا ہے۔

"وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ" (الأنعام: 129) اور اسی طرح ہم ظالموں کو ایک دوسرے پر مسلط کر دیتے ہیں ان کے اعمال کی وجہ سے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جیسے تم ہو گے، ویسے ہی تم پر حکمران مقرر کیے جائیں گے۔" (طبرانی)۔ بعض اوقات اللہ برے لوگوں کو معاشرے کی آزمائش (Test) کے لیے بھیجتا ہے اور کبھی اصلاح (Warning) کے لیے، تاکہ لوگ بیدار ہوں اور اپنے حالات بدلیں۔

خلاصہ و عملی راہنمائی

  1. مرکزِ عقیدت: اپنی وفاداریوں کا مرکز صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو بنائیں۔
  2. تحقیق کا مادہ: سوشل میڈیا یا جلسوں میں کہی گئی ہر بات کو قرآن و سنت کے معیار پر پرکھیں۔
  3. اعتدال: لیڈر کی محبت میں اس قدر اندھے نہ ہوں کہ اس کی غلطی بھی نیکی لگنے لگے۔
  4. توبہ و اصلاح: دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنی اصلاح کریں، کیونکہ ہماری اچھائی ہی اچھے حکمرانوں کی ضامن ہے۔

یاد رکھیں: اندھا اعتماد جہالت اور غلامی کا راستہ ہے، جبکہ بصیرت اور تقویٰ حقیقی آزادی اور ہدایت کا ذریعہ ہیں۔