آئیے، آج ایک ایسی حقیقت کا سامنا کرتے ہیں جس سے ہم سب روزانہ بھاگتے ہیں۔

وہ خاموش چور جو آپ کے سرہانے ہے

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ آپ کی رات کی آخری "محبت" اور صبح کی پہلی "ملاقات" کس سے ہوتی ہے؟ افسوس کہ وہ اب کوئی جیتا جاگتا انسان نہیں، بلکہ آپ کے تکیے کے پاس پڑا وہ مستطیل آلہ ہے جس کی نیلی روشنی آپ کی بینائی سے زیادہ آپ کی بصیرت کو دھندلا رہی ہے۔

ہم آزاد پیدا ہوئے تھے، مگر آج ہم نے اپنی مرضی سے ایک ایسی غلامی قبول کر لی ہے جس کی زنجیریں دکھائی نہیں دیتیں۔ ہم اسکرین کے اسیر ہیں، جہاں ہر "اسکرول" ہمیں ایک نئی دنیا دکھاتا ہے، مگر ہماری اپنی دنیا کو ویران کر دیتا ہے۔

نیلی روشنی کا جادو اور ڈوپامین کا دھوکا

آپ کو لگتا ہے کہ آپ صرف ایک پندرہ سیکنڈ کی 'ریل' دیکھ رہے ہیں، مگر حقیقت میں آپ اپنے دماغ کو ایک ایسی منشیات کا عادی بنا رہے ہیں جس کا نام 'ڈوپامین' ہے۔

  • تجسس کا جال: جیسے ہی آپ ایک ویڈیو ختم کرتے ہیں، انگلی خود بخود اوپر اٹھتی ہے۔ کیونکہ انسانی دماغ تجسس کا مارا ہے، اسے لگتا ہے اگلی ویڈیو میں کوئی بڑا راز یا زیادہ ہنسی چھپی ہے۔
  • نتیجہ: اس پندرہ سیکنڈ کے چکر میں ہم زندگی کے وہ قیمتی پندرہ سال داؤ پر لگا دیتے ہیں جو دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔
مصنوعی چمک اور رشتوں کا قحط

ہم فیس بک پر پانچ ہزار دوستوں کے درمیان "تنہائی" کا شکار ہیں۔ ہم دوسروں کی 'ایڈٹ شدہ' خوشیوں کو دیکھ کر اپنے نصیب کو کوستے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ اسکرین پر نظر آنے والی ہنسی کے پیچھے کتنے فلٹرز لگے ہیں۔

ایک لمحے کے لیے سوچیے: جس وقت آپ کسی وی لاگر کے شاہانہ ناشتے کی تصویر دیکھ کر حسرت کر رہے ہوتے ہیں، عین اسی وقت آپ کی اپنی ماں شاید کچن میں آپ کے لیے چائے بنا رہی ہوتی ہے، اور آپ اس کی محبت کو ایک 'لائیک' کی خاطر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

میرا وقت، میری امانت!
قرآن کریم نے پکار کر کہا تھا: "والعصر! بے شک انسان خسارے میں ہے"۔ یہ خسارہ کیا ہے؟ یہ وقت کا وہ ضیاع ہے جو ہم بے مقصد مواد (Content) کے سمندر میں غرق کر رہے ہیں۔ ہم 'یوزر' کہلاتے ہیں، مگر ہم استعمال ہو رہے ہیں۔ ہم کلائنٹ نہیں، ہم تو وہ پروڈکٹ ہیں جسے سوشل میڈیا کمپنیاں اشتہارات کے عوض بیچ رہی ہیں۔
آنے والا کل: کیا ہم سنبھل پائیں گے؟

یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ یہ تو صرف آغاز ہے۔ اگلی قسط میں ہم ایک ایسے خوفناک سچ سے پردہ اٹھائیں گے جو آپ کے سوشل میڈیا پر کیے گئے ایک 'کمنٹ' اور 'میم' کے پیچھے چھپا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا ایک مذاق کسی کی زندگی کیسے تباہ کر سکتا ہے؟ اور کیا آپ کا 'ڈیجیٹل رویہ' آپ کو آخرت میں جوابدہ بنا رہا ہے؟

تلاش کیجیے اپنے اندر کے اس انسان کو، جو اسکرین کی بھیڑ میں کہیں کھو گیا ہے۔

📖 اگلی قسط کا عنوان: "کمنٹ، کردار اور قیامت (آن لائن ٹوکسک رویے)"