آج کی تحریر شروع کرنے سے پہلے اپنے انگوٹھے کو ذرا ایک لمحے کے لیے تھام لیجیے... کیونکہ یہی وہ انگوٹھا ہے جو یا تو کسی کے لیے صدقہِ جاریہ بن سکتا ہے یا کسی کی زندگی برباد کرنے والا خنجر۔

ایک انجانا قتل اور ہماری انگلیاں

کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کی اسکرین سے نکلنے والا ایک زہریلا جملہ کہاں جا کر دم لیتا ہے؟ ہم ایک ایسی بستی کے باسی بن چکے ہیں جہاں ہم انسانوں سے نہیں، 'پروفائلز' سے لڑتے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر ڈیجیٹل تصویر کے پیچھے ایک دھڑکتا ہوا دل، ایک حساس دماغ اور ایک عزتِ نفس موجود ہے۔

جب ہم کسی کی پوسٹ پر محض "تفریح" کے لیے کوئی تضحیک آمیز کمنٹ کرتے ہیں، تو ہم صرف ٹائپ نہیں کر رہے ہوتے، ہم کسی کے وقار کا قتلِ عمد کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ ایک کمنٹ کسی کو رات بھر کی نیند سے محروم کر سکتا ہے، کسی کے اعتماد کی دیواریں گرا سکتا ہے اور کسی کو گوشہ نشینی پر مجبور کر سکتا ہے۔ کیا آپ اس "خاموش قتل" کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟

میمز کا زہر اور مزاح کا جنازہ

آج ہمارا مزاح کتنا سستا ہو گیا ہے کہ اسے اب کسی کی شکل، کسی کے لہجے یا کسی کی غربت کے بیساکھیوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ وہ 'میمز' جنہیں ہم ہنستے ہوئے شیئر کرتے ہیں، کبھی سوچا ہے کہ جس کی تصویر پر وہ بنائی گئیں، اس کے اپنوں پر کیا گزرتی ہوگی؟

ادبی زاویہ: مزاح تو وہ تھا جو مرجھائے ہوئے چہروں پر رونق لاتا، مگر یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ اب ہمارا قہقہہ کسی کی سسکیوں سے کشید کیا جاتا ہے۔ یہ مزاح نہیں، یہ تو انسانیت کا وہ جنازہ ہے جو ہم نے بڑے دھوم دھام سے 'وائرل' کر دیا ہے۔
قیامت کا رجسٹر: ڈیجیٹل نامہِ اعمال

میرے عزیز ہم وطنو! اسکرین پر کی گئی ہر حرکت، ہر لائیک اور ہر گالی ایک ایسے 'سرور' (Server) پر محفوظ ہو رہی ہے جسے 'ڈیلیٹ' کرنا کسی ہیکر کے بس میں نہیں۔ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے: "ما یلفظ من قول إلا لدیہ رقیب عتید" (وہ کوئی لفظ زبان سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار رہتا ہے)۔

کل جب حساب کی گھڑی ہوگی، تو شاید ہمارے پاس اپنی زبان کی صفائی میں کہنے کو کچھ نہ ہو، مگر یہ انگلیاں گواہی دیں گی کہ کن کن کی پگڑیاں اچھالی تھیں، کس کس کی ساکھ کو خاک میں ملایا تھا اور کتنے ہی 'شیئرز' کے ذریعے جھوٹ کو سچ بنا کر بیچا تھا۔

انصاف کا لبادہ اور منافقت کا چہرہ

ہمیں غصہ تب آتا ہے جب "ہماری" باری آتی ہے۔ ہم دوسروں کے لیے 'ناقد' (Judge) بن جاتے ہیں اور اپنے لیے 'وکیل'۔ اگر کوئی سیاسی مخالف ہو تو ہم اسے گالی دینا اپنا اخلاقی حق سمجھتے ہیں، گویا اسلام کی تمام اخلاقی حدود صرف اپنوں تک محدود تھیں۔ یاد رکھیے! ظلم جب ڈیجیٹل ہوتا ہے، تو اس کا وبال بھی عالمی (Global) ہو جاتا ہے۔

تجسس کی ایک خلش: کیا ہم صرف 'منصف' ہیں؟

یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ہم دوسروں کو برا بھلا کہہ کر خود کو بہت "سچا اور کھرا" محسوس کرتے ہیں۔ لیکن کیا یہ سچائی ہے یا ایک ذہنی بیماری؟

  • اگلی قسط میں ایک چبھتا ہوا سوال آپ کا منتظر ہے: ہم ہر وقت دوسروں پر ہی تنقید کیوں کرتے ہیں؟ کیا ہمارے اندر کا 'فرعون' ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ ہم علم اور سچائی کے آخری ٹھیکیدار ہیں؟
📖 اگلی قسط کا عنوان: "تنقید برائے تعمیر یا تذلیل؟ — خود پسندی کا ڈیجیٹل بخار"