Monday, April 20, 2026

سلسلہ وار مضمون: قسط چہارم عنوان: نیکی کی تجارت — ڈیجیٹل نمائش اور ضائع ہوتی عبادتیں تحریر: ندیم سہیل

نیکی کی تجارت | ڈیجیٹل نمائش اور ضائع ہوتی عبادتیں | ڈیجیٹل اخلاقیات
سلسلہ وار مضمون: قسط چہارم | عکسِ شعور

نیکی کی تجارت — ڈیجیٹل نمائش اور ضائع ہوتی عبادتیں

تحریر: ندیم سہیل

آج کی گفتگو شاید تھوڑی بھاری محسوس ہو، لیکن یہ بوجھ آپ کے دل کو دکھانے کے لیے نہیں، بلکہ اسے اس "دیمک" سے بچانے کے لیے ہے جو ہماری نیکیوں کی جڑوں کو خاموشی سے چاٹ رہی ہے۔ آئیے، ایک لمحے کے لیے رک کر اپنے گریبان میں جھانکتے ہیں۔

نیکی یا 'پبلک ریلیشنز' (PR)؟

ماضی میں نیکی ایک راز ہوتی تھی، بندے اور رب کے درمیان ایک پوشیدہ معاملہ۔ مگر آج کے ڈیجیٹل دور میں نیکی ایک "پروڈکٹ" بن چکی ہے۔

  • ہم کسی غریب کو کھانا کھلاتے ہیں تو لقمہ اس کے منہ میں بعد میں جاتا ہے، تصویر پہلے فیس بک پر اپ لوڈ ہوتی ہے۔
  • ہم عمرے پر جاتے ہیں تو کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر دعا مانگنے سے زیادہ اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ "سیلفی" کا زاویہ (Angle) درست ہے یا نہیں۔
  • ہم تہجد کے لیے اٹھتے ہیں تو مصلے کی تصویر اسٹوری پر لگا کر دنیا کو بتاتے ہیں کہ "الحمدللہ! آج اللہ نے توفیق دی"۔

میرے عزیز ہم وطنو! جب نیکی کی تشہیر مقصود ہو جائے، تو وہ عبادت نہیں رہتی، بلکہ "تجارت" بن جاتی ہے۔ ہم اللہ سے اجر نہیں مانگ رہے ہوتے، بلکہ لوگوں سے 'لائیکس' اور 'تعریف' کی بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔

دوسروں کی تذلیل: نیکی کا لبادہ اور زہریلا لہجہ

سب سے ہولناک سچ یہ ہے کہ ہم اکثر "امر بالمعروف" (نیکی کا حکم دینے) کے نام پر دوسروں کی تذلیل کرتے ہیں۔ ہم کسی گناہ گار کی پوسٹ پر جا کر اسے جہنم کی وعیدیں سناتے ہیں، اسے ذلیل کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے دین کا بہت بڑا کام کیا ہے۔

یاد رکھیے: اگر آپ کی نصیحت سے کسی کا دل ٹوٹ جائے یا وہ دین سے دور ہو جائے، تو یہ نیکی نہیں بلکہ ایک نیا گناہ ہے۔ دینِ اسلام "رحمت" بن کر آیا تھا، "زحمت" بن کر نہیں۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم دوسروں کے عیب اچھال کر کہیں اپنی نیکیوں کا سودا تو نہیں کر رہے؟
دیمک کی طرح چاٹتی "ریاکاری"

اخلاقی اور مذہبی نقطہ نظر سے "ریا" (دکھاوا) وہ گناہ ہے جسے 'شرکِ اصغر' کہا گیا ہے۔ یہ وہ سفید دیمک ہے جو بظاہر لکڑی کو سلامت رکھتی ہے مگر اندر سے اسے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ڈیجیٹل نمائش کا یہ بخار ہماری نیتوں کے اخلاص کو ختم کر رہا ہے۔ جب ہماری عبادت کا مرکز اللہ کے بجائے "ڈیجیٹل پبلک" بن جائے، تو وہ عمل آسمان تک نہیں پہنچ پاتا، بلکہ اسکرین کی اس نیلی روشنی میں ہی دم توڑ دیتا ہے۔

معاشرتی اثرات: نفسیاتی بگاڑ کا سبب

جب ہم اپنی نیکیوں اور خوشیوں کی مسلسل نمائش کرتے ہیں، تو ہم غیر محسوس طریقے سے معاشرے میں "احساسِ محرومی" پھیلاتے ہیں۔

  • آپ کی افطار کی پرتعیش تصویر شاید کسی بھوکے کے دل کو جلا دے۔
  • آپ کی صدقہ دیتے ہوئے تصویر اس غریب کی عزتِ نفس کو پامال کر دے۔
  • کیا ایسی نیکی، نیکی کہلانے کی حقدار ہے جو کسی کی آنکھ میں آنسو لے آئے؟
حکمت اور حل: اخلاص کی بازیافت

ہمیں ٹیکنالوجی سے نہیں، اپنی نیتوں سے لڑنا ہے۔

  1. پوشیدہ نیکی کا مزہ چکھیں: ہفتے میں کم از کم ایک ایسا کام کریں جس کی خبر آپ کے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو بھی نہ ہو، اور اسے سوشل میڈیا کی نظر ہرگز نہ کریں۔
  2. کمنٹ کرنے سے پہلے رکیں: اگر کسی کی اصلاح کرنی ہے تو اسے پبلک کمنٹ میں ذلیل کرنے کے بجائے "ان باکس" (DM) میں جا کر نہایت نرمی سے بات کریں۔
  3. نیت کی تجدید: پوسٹ کرنے سے پہلے خود سے پوچھیں، "میں یہ کیوں شیئر کر رہا ہوں؟ اللہ کے لیے یا واہ واہ کے لیے؟"
تجسس کی ایک نئی لہر: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

نیکی کی اس نمائش سے نکل کر، اگلی بار ہم ایک اور اہم موضوع پر بات کریں گے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ "ہماری مرضی، ہم جو چاہیں پوسٹ کریں"، لیکن کیا یہ آزادی واقعی ہماری ہے یا ہم کسی عالمی ایجنڈے کے تحت "ڈیجیٹل غلام" بن چکے ہیں؟

  • اگلی قسط میں ہم دیکھیں گے: "آزادیِ رائے یا بے لگام زبان؟ — وہ حدیں جو ہم نے پار کر دیں"۔
📖 اگلی قسط کا عنوان: "آزادیِ رائے یا اخلاقی انارکی؟ — جب لفظ ہتھیار بن جائیں"
آج کی مخلصانہ دعا:
یا رب! ہمارے عمل کو ریا سے، ہماری زبان کو کبر سے اور ہمارے دل کو دکھاوے کی آلودگی سے پاک فرما۔ ہمیں اس قابل بنا کہ ہماری ڈیجیٹل موجودگی کسی کے لیے زحمت نہیں، بلکہ رحمت بن جائے۔ آمین۔