آزادیِ رائے یا اخلاقی انارکی؟ — جب لفظ ہتھیار بن جائیں
آج ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہر ہاتھ میں ایک مائیکروفون ہے اور ہر زبان کو مکمل چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ ہم اسے فخر سے "آزادیِ اظہار" کا نام دیتے ہیں، لیکن کیا کبھی ہم نے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا کہ اس آزادی کے نام پر ہم نے کتنی بستیاں اجاڑ دیں اور کتنے ہی معصوم دلوں کو زخمی کر دیا؟ آزادی بلاشبہ ایک نعمت ہے، لیکن جب یہ ذمہ داری کے احساس سے عاری ہو جائے تو یہ معاشرے کے لیے ایک ایسا "ایٹم بم" بن جاتی ہے جو بغیر آواز کے روحوں کو قتل کرتا ہے۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کا عروج ہمیشہ ان کے اخلاق سے وابستہ رہا ہے۔ یونانی فلسفیوں سے لے کر برصغیر کے مفکرین تک، سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ "آپ کی آزادی وہاں ختم ہوتی ہے جہاں دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے"۔ مگر ڈیجیٹل دنیا نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ آج ہم اسکرین کے پیچھے چھپ کر وہ سب کچھ کہہ جاتے ہیں جسے سن کر ہمارا اپنا ضمیر بھی کانپ اٹھے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہر پروفائل کے پیچھے ایک جیتا جاگتا انسان ہے جس کا ایک خاندان ہے، جس کی اپنی عزتِ نفس ہے۔
(اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی، سچی اور کھری بات کہو) — سورۃ الاحزاب
'قولِ سدید' کا مطلب صرف سچ بولنا نہیں بلکہ ایسی بات کرنا ہے جو محکم ہو، جس میں کوئی کجی نہ ہو اور جو کسی کی دل آزاری کا سبب نہ بنے۔ جب ہم بغیر سوچے سمجھے کسی پر تہمت لگاتے ہیں یا اسے نیچا دکھاتے ہیں، تو ہم دراصل 'قولِ سدید' کے الہیٰ اصول کی خلاف ورزی کر رہے ہوتے ہیں۔
پہلے زمانے میں کہا جاتا تھا کہ "تلوار کا زخم بھر جاتا ہے مگر زبان کا زخم نہیں بھرتا"، آج کے دور میں اس کا اطلاق ہمارے "کی بورڈ" پر ہوتا ہے۔ ایک غلط پوسٹ یا ایک طنزیہ کمنٹ کسی کی برسوں کی محنت کو خاک میں ملا سکتا ہے۔
- سماجی مثال: ذرا سوچئے اس باپ کے بارے میں جس کی بیٹی کی تصویر کسی نے محض 'میم' (Meme) بنانے کے لیے استعمال کی اور وہ وائرل ہو گئی۔ کیا اس باپ کی آزادیِ رائے اس بچی کی زندگی بھر کی رسوائی سے بڑھ کر ہے؟
- منطقی پہلو: اگر ہم ہر اس بات کو کہنے کی آزادی چاہتے ہیں جو ہمارے ذہن میں آتی ہے، تو پھر ہمیں دوسروں کو بھی وہی حق دینا ہوگا کہ وہ ہمیں گالی دیں یا ہماری تذلیل کریں۔ کیا ہم اس کے لیے تیار ہیں؟ یقیناً نہیں! تو پھر یہ دوہرا معیار کیوں؟
دنیا کے اکثر ممالک میں اب 'سائبر بلنگ' (Cyber Bullying) اور 'ہراسانی' کے خلاف سخت قوانین بن چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی 'پیکا' (PECA) جیسے قوانین موجود ہیں جو کسی کی عزت اچھالنے پر قید اور جرمانے کی سزا دیتے ہیں۔ لیکن ایک مسلمان اور ایک باشعور شہری کے طور پر ہمارا اصل قانون وہ "خوفِ خدا" ہونا چاہیے جو ہمیں تنہائی میں بھی بے لگام ہونے سے روک دے۔
یہ اخلاق صرف مسجد یا محفل تک محدود نہیں، بلکہ فیس بک کے کمنٹ سیکشن اور واٹس ایپ کے گروپ میں بھی نظر آنے چاہئیں۔ جب ہم سیاسی مخالفت میں کسی کی ماں بہن کو گالی دیتے ہیں یا کسی کے عقیدے کا مذاق اڑاتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی تربیت کا جنازہ نکال رہے ہوتے ہیں۔ یاد رکھیے! لفظ ایک بار زبان یا کی بورڈ سے نکل جائے تو وہ دوبارہ کبھی لوٹ کر نہیں آتا، بلکہ وہ فضا میں ایک زہر بن کر تیرتا رہتا ہے جس کا حساب ہمیں ہر حال میں دینا ہوگا۔
یہ مضمون یہاں ختم نہیں ہوتا، بلکہ ایک نئے سوال کو جنم دیتا ہے۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ ہم جو کچھ سوشل میڈیا پر لکھ رہے ہیں، وہ ہماری اپنی سوچ ہے۔
- اگلی قسط میں ہم اس ہولناک سچائی سے پردہ اٹھائیں گے: کیا آپ جانتے ہیں کہ پسِ پردہ کچھ طاقتیں (Algorithms) آپ کی سوچ کو کنٹرول کر رہی ہیں؟ کیا آپ اپنی مرضی سے پوسٹ کر رہے ہیں یا آپ کو ایک خاص ایجنڈے کے تحت "استعمال" کیا جا رہا ہے؟
آزادیِ رائے ایک امانت ہے، اسے دوسروں کو نیچا دکھانے کے لیے ہتھیار نہ بنائیں۔ کلک کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ آپ کا یہ جملہ کسی کے لیے مرہم بنے گا یا ناسور۔