ذرا تصور کیجیے، آپ ایک عالی شان ہوائی جہاز کے فرسٹ
کلاس کیبن میں بیٹھے ہیں۔ نرم نشستیں، انواع و اقسام کے کھانے، اور ہر سہولت موجود
ہے۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ محض چند گھنٹوں بعد یہ جہاز لینڈ کر جائے گا اور آپ کو
سب کچھ یہیں چھوڑ کر اترنا ہوگا۔ کیا آپ اس سیٹ کی سجاوٹ پر اپنی پوری جمع پونجی
لٹائیں گے؟ یا اس شہر کی فکر کریں گے جہاں آپ کو ہمیشہ رہنا ہے؟
افسوس! ہم دنیا کے جہاز میں بیٹھ کر اپنی اصل منزل کو
بھول بیٹھے ہیں۔
1. وہ دھوکا جسے ہم
زندگی سمجھتے ہیں
پاکستان میں ہم عموماً اپنی پوری جوانی ایک بڑا گھر
بنانے، پلاٹ خریدنے اور بینک بیلنس جمع کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی
سوچا کہ جس گھر کی دیواروں کو ہم چومتے ہیں، وہی دیواریں ایک دن ہمارے جنازے پر
خاموش تماشائی بنی کھڑی ہوں گی؟
قرآنِ پاک کی یہ آیت دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے:
"اور
دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔
"
سورۃ آلِ عمران: 185
ایک عبرت انگیز کہانی:
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ مجھے
دنیا کی سب سے بڑی سچائی اور سب سے بڑا جھوٹ ایک ہی جملے میں بتاؤ۔ وزیر نے کہا: "بادشاہ سلامت! 'موت' سب
سے بڑی سچائی ہے جسے سب جھوٹ سمجھتے ہیں، اور 'زندگی' سب سے بڑا جھوٹ ہے جسے سب سچ
سمجھتے ہیں۔"
2. رشتوں کی حقیقت:
جب کوئی کسی کا نہ ہوگا
ہم اپنے بچوں اور خاندان کے لیے حلال و حرام کی تمیز
بھول کر دولت جمع کرتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ یہ رشتے ہمارا سہارا بنیں گے۔ لیکن
قیامت کا منظر کتنا ہولناک ہوگا:
"جس
دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں
سے بھاگے گا۔"
(سورۃ عبس: 34-36)
دنیا میں اگر آپ کو کانٹا چبھے تو ماں تڑپ اٹھتی ہے،
لیکن وہاں ہر کوئی "نفسی
نفسی"
کے عالم میں ہوگا۔ وہاں صرف وہ رشتہ کام آئے گا جو اللہ
کے لیے جوڑا گیا تھا۔
3. مال و دولت: کتنا
آپ کا ہے؟
ہمارے معاشرے میں "اسٹیٹس" کی دوڑ لگی ہے۔
مہنگی گاڑیاں، برانڈڈ کپڑے اور ڈیزائنر گھر۔ یاد رکھیے، آپ کا مال وہ نہیں جو آپ
کے بینک اکاؤنٹ میں ہے، بلکہ آپ کا مال وہ ہے جو آپ نے اپنے آگے بھیج دیا۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"بندہ
کہتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں سے اس کے لیے صرف تین چیزیں
ہیں: جو کھا کر ختم کر دیا، جو پہن کر پرانا کر دیا، اور جو اللہ کی راہ میں دے کر
ذخیرہ کر لیا۔" (صحیح
مسلم)
حکایت: حضرت
جنید بغدادیؒ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں بہت امیر ہونا چاہتا ہوں۔
آپؒ نے فرمایا: "اتنی
دولت جمع کر لو کہ اللہ کے حضور حساب دیتے وقت تمہیں شرمندگی نہ ہو۔" وہ شخص تڑپ اٹھا، کیونکہ
حساب تو ایک ایک پائی کا ہونا ہے۔
4. گھر: کرائے کا
مکان یا ابدی محل؟
پاکستان میں ہم "اپنا گھر" بنانے کے لیے
زندگی کی تمام جمع پونجی لگا دیتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی جنت کے مکان کی بکنگ کروائی؟
- دنیا کا گھر:
سیمنٹ اور اینٹوں کا، جہاں مچھر بھی
تنگ کرتا ہے اور گرمی بھی لگتی ہے۔
- آخرت کا گھر:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت کی ایک
اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی ہے، اس کا گارا کستوری ہے، اس کی کنکریاں موتی
اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے۔ (ترمذی)
5. موت: ایک کڑوی مگر
خوبصورت حقیقت
ہم موت سے ڈرتے ہیں کیونکہ ہم نے دنیا کو آباد کیا ہے
اور آخرت کو ویران۔ اگر آخرت آباد ہو، تو موت ایسے ہی ہے جیسے ایک قیدی جیل سے رہا
ہو کر اپنے گھر جا رہا ہو۔
ایک سبق آموز واقعہ:
ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا:
"ہمیں موت سے ڈر کیوں لگتا ہے؟" انہوں نے جواب دیا: "اس لیے کہ تم نے اپنی
دنیا کو تو سجایا ہے لیکن اپنی آخرت کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اب تم آباد جگہ سے کھنڈر
کی طرف جاتے ہوئے ڈرتے ہو۔"
حاصلِ کلام: اب بھی وقت ہے!
اے غافل انسان! یہ دنیا ایک سراب ہے۔ یہاں کی خوشی
عارضی، یہاں کا غم عارضی۔ اگر آپ کے پاس دولت ہے، تو اسے اللہ کے بندوں پر خرچ کر
کے اپنا "اخروی اکاؤنٹ" (Akhirat Account) بھر
لیں۔
خدا کے لیے سوچئے! جب ہم قبر کے اندھیرے میں اکیلے ہوں
گے، تو وہاں نہ ہماری ڈگری کام آئے گی، نہ ہمارا عہدہ اور نہ ہماری قیمتی گاڑی۔
وہاں صرف وہ سجدے کام آئیں گے جو ہم نے تنہائی میں کیے، اور وہ آنسو کام آئیں گے
جو اللہ کے خوف سے گرے۔
آج ہی فیصلہ کیجیے: آپ مسافر بن کر رہنا چاہتے ہیں یا
اس دنیا کا قیدی؟
"اے
اللہ! ہمیں دنیا کو ویسا دکھا جیسی وہ حقیقت میں ہے، اور ہمیں آخرت کی فکر عطا
فرما۔ آمین"