Friday, April 17, 2026

سلسلہ وار مضمون: قسط سوم عنوان: میں، موبائل اور میرے "فتوے" — (خود پسندی کا ڈیجیٹل بخار) تحریر: ندیم سہیل

میں، موبائل اور میرے فتوے | خود پسندی کا ڈیجیٹل بخار | ڈیجیٹل اخلاقیات
سلسلہ وار مضمون: قسط سوم | عکسِ شعور

میں، موبائل اور میرے "فتوے" — (خود پسندی کا ڈیجیٹل بخار)

تحریر: ندیم سہیل

آج کی محفل میں ایک ایسی حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیں جس کے سامنے آتے ہی ہمارے 'تقویٰ' اور 'دانشورانہ' غرور کے محل دھڑام سے گر جائیں گے۔ آئیے، ذرا اسکرین کی چمک سے ہٹ کر اپنے اندر کے اندھیروں میں جھانکتے ہیں۔

میں... یعنی عقلِ کل کا ٹھیکیدار!

کیا آپ نے غور کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر آتے ہی ہمارے اندر کا 'فرعون' کیسے جاگ اٹھتا ہے؟ ہم ایک ہاتھ میں فون پکڑتے ہیں اور دوسرے ہاتھ میں (مجازی طور پر) کفر، غداری اور جہالت کے فتوے لے کر نکل پڑتے ہیں۔

ہر شخص، چاہے اس کا علم واٹس ایپ فارورڈز تک ہی محدود کیوں نہ ہو، خود کو مذہب، سیاست اور معاشرت کا سب سے بڑا ماہر سمجھنے لگتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ چونکہ ہم "اسکرول" کر رہے ہیں، اس لیے ہم سب جانتے ہیں۔

ادبی زاویہ: یہ وہ "میں" ہے جو ڈیجیٹل کائنات کے افق پر چمکتی ہے، مگر افسوس کہ یہ "میں" اپنے پیچھے "ہم" کے جنازے اٹھائے پھرتی ہے۔
تنقید یا تذلیل؟ — ایک باریک لکیر

ہم جسے "تنقید برائے تعمیر" کا نام دیتے ہیں، وہ اکثر محض "تنقید برائے تذلیل" ہوتی ہے۔ ہم کسی کی غلطی کی اصلاح نہیں کرنا چاہتے، بلکہ ہم اسکرین کے بھرے مجمعے میں اسے رسوا کر کے اپنی انا کی تسکین چاہتے ہیں۔

  • سیاسی ٹولنس (Tolerance): اگر کوئی ہماری پسندیدہ شخصیت پر تنقید کرے تو ہم اسے بدتمیزی سمجھتے ہیں، مگر ہم خود دوسروں کے لیڈروں کی تصاویر کو بگاڑنے اور ان کے لیے غلیظ زبان استعمال کرنے میں ایک لمحہ نہیں لگاتے۔
  • مذہبی انتہا پسندی: ہم دین کی بات کرتے ہوئے اخلاق بھول جاتے ہیں۔ کسی دوسرے فرقے یا مسلک کے فرد کو 'کافر' یا 'گمراہ' کہنا ہمارے لیے ایک کلک کا کام ہے۔ کیا اسلام نے ہمیں یہی سکھایا تھا؟
حکمتِ دین: آئینہ دکھانے کا سلیقہ
"اس سے نرمی سے بات کرنا، شاید وہ نصیحت قبول کر لے یا ڈر جائے" (طٰہٰ)

لیکن ہم؟ ہم تو اسکرین کے پیچھے بیٹھ کر ہر اس شخص کو "فرعون" بنا دیتے ہیں جو ہم سے تھوڑا سا مختلف سوچتا ہے۔ ہم آئینہ دکھانے کے شوق میں بھول جاتے ہیں کہ آئینے میں پہلے اپنا چہرہ بھی دیکھنا ہوتا ہے۔

نتیجہ: ایک معاشرتی تباہی

اس خود پسندی کے بخار نے ہمارے معاشرے کو گروہوں میں بانٹ دیا ہے۔ اب کوئی مکالمہ (Dialogue) نہیں ہوتا، صرف دو طرفہ تقریریں ہوتی ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی بات سننے کے لیے نہیں، بلکہ جواب دینے (Counter) کے لیے اسکرول کرتے ہیں۔

تجسس کی نئی چنگاری: کیا یہ "نیکی" ہے؟
  • اگلی قسط میں ہم ایک ہولناک سچ کا سامنا کریں گے: کیا دوسروں کی تذلیل کرنا نیکی ہے یا یہ ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو ہماری اپنی تمام نیکیوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے؟
📖 اگلی قسط کا عنوان: "نیکی کی تجارت — ڈیجیٹل نمائش اور ضائع ہوتی عبادتیں"
آج کا دل پر دستک دینے والا پیغام:
کسی کی پوسٹ پر 'کفر' یا 'جہالت' کا کمنٹ ٹائپ کرنے سے پہلے، اپنی آنکھیں بند کریں اور سوچیں: "اگر میں اس شخص کی جگہ ہوتا اور میری کوئی غلطی ہوتی، تو کیا میں اس انداز میں کی گئی اصلاح کو قبول کرتا؟" انصاف کی میزان کو صرف دوسروں کے لیے نہیں، بلکہ اپنی ذات کے لیے بھی استعمال کریں۔ یہی عکسِ شعور ہے۔

No comments:

Post a Comment