Friday, April 3, 2026

مہنگائی کا تازیانہ اور خالی دسترخوان: حکمرانو! عوام کی قربانی نہیں، اپنی عیاشیوں کی قربانی دو تحریر: ندیم سہیل

 

تصور کریں اس باپ کا، جو رات کے اندھیرے میں پیٹرول پمپ پر 136 روپے کے اضافے کی خبر سن کر اپنی موٹر سائیکل وہیں چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ اب اس کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ گھر جا کر بچوں کے لیے آدھا کلو دودھ بھی لے سکے۔ کیا یہ محض ایک معاشی فیصلہ ہے یا اس ملک کے غریب کے جینے کے حق پر آخری ضرب؟ جب ریاست کا خزانہ خالی ہو تو کٹوتی عوام کے دسترخوان سے نہیں بلکہ حکمرانوں کے پروٹوکول سے ہونی چاہیے۔

ہمارے اعمال اور معاشی زوال: قرآنی انتباہ

موجودہ معاشی بحران محض اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہیں، بلکہ یہ ایک روحانی تنبیہ بھی ہے۔ قرآنِ کریم صاف الفاظ میں کہتا ہے:

"اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے، اور وہ بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے۔"   سورۃ الشوریٰ: 30

ہم نے اجتماعی طور پر اللہ کے احکامات سے روگردانی کی۔ سود (Riba)، جسے اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ قرار دیا گیا ہے، اسے اپنی معیشت کی بنیاد بنا لیا۔ جب جنگ اللہ سے ہو تو جیت کی امید کیسی؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔" (سورۃ البقرہ: 276)   آج ہماری بے برکتی کی سب سے بڑی وجہ یہی سودی نظام اور ناپ تول میں کمی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، اللہ اس پر قحط، سخت محنت (معاشی تنگی) اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کر دیتا ہے۔"   ابنِ ماجہ

حکمرانوں کی ذمہ داری: عوام 'قربانی کا بکرا' کیوں؟

وقت آ گیا ہے کہ مقتدر طبقہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ غریب عوام کے نحیف کندھوں پر ڈال کر خود کو 'مجبور' ظاہر کرنا چھوڑ دے۔ عوام کو "قربانی کا بکرا" بنا کر ان سے مزید ٹیکس مانگنے کے بجائے، حکمرانوں کو اب ’قرونِ اولیٰ‘ کے مثالی حکمرانوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔

سیدنا عمر فاروق (رض) کا دورِ خلافت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جب مدینہ میں "عام الرمادہ" (قحط کا سال) آیا، تو آپؓ نے قسم کھائی تھی کہ جب تک میری رعایا کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملے گا، میں گھی اور گوشت کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ خلیفہ وقت کا پیٹ بھوک کی وجہ سے قراقر (آوازیں) کرتا تھا لیکن وہ اپنے عوام کے ساتھ فاقے میں شریک تھے۔ آپؓ فرماتے تھے:

"اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر (رض) سے اس کا حساب لیا جائے گا۔"

آج کے حکمرانوں کو گریبان میں جھانکنا ہوگا؛ کیا ان کے شاہانہ پروٹوکول، اربوں روپے کی رہائش گاہیں اور مفت پیٹرول کی عیاشیاں اس 'خوفِ خدا' کی عکاسی کرتی ہیں؟

بحران سے نکلنے کا راستہ: قرآن و سنت کا حل

معاشی دلدل سے نکلنے کے لیے ہمیں آئی ایم ایف کے بجائے "رجوع الی اللہ" کی طرف دیکھنا ہوگا:

  1. استغفار اور توبہ: قرآن کہتا ہے کہ استغفار کرو، اللہ آسمان سے رزق کی بارشیں برسا دے گا۔ (سورۃ نوح)
  2. سودی نظام کا خاتمہ: جب تک سودی زنجیریں نہیں ٹوٹیں گی، معیشت کبھی آزاد نہیں ہوگی۔
  3. عدلِ فاروقی کا نفاذ: حکمران اپنی مراعات اور شاہ خرچیاں ختم کر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا عملی ثبوت دیں۔ مفت بجلی، مفت پیٹرول اور وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہی معاشی اصلاحات کا پہلا قدم ہونا چاہیے۔
  4. امانت و دیانت: حدیثِ نبویؐ ہے: "الکاسب حبیب اللہ" (محنت سے کمانے والا اللہ کا دوست ہے)۔ رشوت اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ برکت کا سبب بنے گا۔

نتیجہ فکر

اے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگو! یاد رکھو کہ کرسی آنی جانی ہے، لیکن وہ آہیں جو ایک مجبور باپ کے سینے سے نکلتی ہیں، وہ عرش کو ہلا دینے والی ہوتی ہیں۔ اب وقت "قربانی مانگنے" کا نہیں بلکہ خود "قربانی دے کر مثال بننے" کا ہے۔ اگر حکمران طبقہ اپنی عیاشیاں قربان کر دے تو یہ قوم اپنے خون کا آخری قطرہ بھی ملک پر نثار کرنے کو تیار ہو جائے گی۔ لیکن اگر صرف غریب کا چولہا بجھایا گیا، تو یاد رکھیے کہ بھوک جب حد سے بڑھتی ہے تو وہ ہر نظام کو بہا لے جاتی ہے۔

ابھی وقت ہے کہ توبہ کی جائے اور عدل و سادگی کو اپنا شعار بنایا جائے۔

Wednesday, April 1, 2026

مسافر ہو... تو سامانِ سفر تیار رکھو!" دنیا کی رنگینی اور آخرت کی سنگینی: ایک دل گداز موازنہ تحریر: ندیم سہیل بمعاونت: مصنوعی ذہانت (AI)

 

ذرا تصور کیجیے، آپ ایک عالی شان ہوائی جہاز کے فرسٹ کلاس کیبن میں بیٹھے ہیں۔ نرم نشستیں، انواع و اقسام کے کھانے، اور ہر سہولت موجود ہے۔ لیکن آپ کو معلوم ہے کہ محض چند گھنٹوں بعد یہ جہاز لینڈ کر جائے گا اور آپ کو سب کچھ یہیں چھوڑ کر اترنا ہوگا۔ کیا آپ اس سیٹ کی سجاوٹ پر اپنی پوری جمع پونجی لٹائیں گے؟ یا اس شہر کی فکر کریں گے جہاں آپ کو ہمیشہ رہنا ہے؟

افسوس! ہم دنیا کے جہاز میں بیٹھ کر اپنی اصل منزل کو بھول بیٹھے ہیں۔

1. وہ دھوکا جسے ہم زندگی سمجھتے ہیں

پاکستان میں ہم عموماً اپنی پوری جوانی ایک بڑا گھر بنانے، پلاٹ خریدنے اور بینک بیلنس جمع کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی سوچا کہ جس گھر کی دیواروں کو ہم چومتے ہیں، وہی دیواریں ایک دن ہمارے جنازے پر خاموش تماشائی بنی کھڑی ہوں گی؟

قرآنِ پاک کی یہ آیت دل کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے:

"اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔ " سورۃ آلِ عمران: 185

ایک عبرت انگیز کہانی: کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ مجھے دنیا کی سب سے بڑی سچائی اور سب سے بڑا جھوٹ ایک ہی جملے میں بتاؤ۔ وزیر نے کہا: "بادشاہ سلامت! 'موت' سب سے بڑی سچائی ہے جسے سب جھوٹ سمجھتے ہیں، اور 'زندگی' سب سے بڑا جھوٹ ہے جسے سب سچ سمجھتے ہیں۔"

2. رشتوں کی حقیقت: جب کوئی کسی کا نہ ہوگا

ہم اپنے بچوں اور خاندان کے لیے حلال و حرام کی تمیز بھول کر دولت جمع کرتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ یہ رشتے ہمارا سہارا بنیں گے۔ لیکن قیامت کا منظر کتنا ہولناک ہوگا:

"جس دن آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں اور اپنے باپ سے، اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے بھاگے گا۔" (سورۃ عبس: 34-36)

دنیا میں اگر آپ کو کانٹا چبھے تو ماں تڑپ اٹھتی ہے، لیکن وہاں ہر کوئی "نفسی نفسی" کے عالم میں ہوگا۔ وہاں صرف وہ رشتہ کام آئے گا جو اللہ کے لیے جوڑا گیا تھا۔

3. مال و دولت: کتنا آپ کا ہے؟

ہمارے معاشرے میں "اسٹیٹس" کی دوڑ لگی ہے۔ مہنگی گاڑیاں، برانڈڈ کپڑے اور ڈیزائنر گھر۔ یاد رکھیے، آپ کا مال وہ نہیں جو آپ کے بینک اکاؤنٹ میں ہے، بلکہ آپ کا مال وہ ہے جو آپ نے اپنے آگے بھیج دیا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"بندہ کہتا ہے میرا مال، میرا مال، حالانکہ اس کے مال میں سے اس کے لیے صرف تین چیزیں ہیں: جو کھا کر ختم کر دیا، جو پہن کر پرانا کر دیا، اور جو اللہ کی راہ میں دے کر ذخیرہ کر لیا۔" (صحیح مسلم)

حکایت: حضرت جنید بغدادیؒ کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میں بہت امیر ہونا چاہتا ہوں۔ آپؒ نے فرمایا: "اتنی دولت جمع کر لو کہ اللہ کے حضور حساب دیتے وقت تمہیں شرمندگی نہ ہو۔" وہ شخص تڑپ اٹھا، کیونکہ حساب تو ایک ایک پائی کا ہونا ہے۔

4. گھر: کرائے کا مکان یا ابدی محل؟

پاکستان میں ہم "اپنا گھر" بنانے کے لیے زندگی کی تمام جمع پونجی لگا دیتے ہیں۔ لیکن کیا کبھی جنت کے مکان کی بکنگ کروائی؟

  • دنیا کا گھر: سیمنٹ اور اینٹوں کا، جہاں مچھر بھی تنگ کرتا ہے اور گرمی بھی لگتی ہے۔
  • آخرت کا گھر: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت کی ایک اینٹ سونے کی اور ایک چاندی کی ہے، اس کا گارا کستوری ہے، اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے۔ (ترمذی)

5. موت: ایک کڑوی مگر خوبصورت حقیقت

ہم موت سے ڈرتے ہیں کیونکہ ہم نے دنیا کو آباد کیا ہے اور آخرت کو ویران۔ اگر آخرت آباد ہو، تو موت ایسے ہی ہے جیسے ایک قیدی جیل سے رہا ہو کر اپنے گھر جا رہا ہو۔

ایک سبق آموز واقعہ: ایک بزرگ سے کسی نے پوچھا: "ہمیں موت سے ڈر کیوں لگتا ہے؟" انہوں نے جواب دیا: "اس لیے کہ تم نے اپنی دنیا کو تو سجایا ہے لیکن اپنی آخرت کو کھنڈر بنا دیا ہے۔ اب تم آباد جگہ سے کھنڈر کی طرف جاتے ہوئے ڈرتے ہو۔"

حاصلِ کلام: اب بھی وقت ہے!

اے غافل انسان! یہ دنیا ایک سراب ہے۔ یہاں کی خوشی عارضی، یہاں کا غم عارضی۔ اگر آپ کے پاس دولت ہے، تو اسے اللہ کے بندوں پر خرچ کر کے اپنا "اخروی اکاؤنٹ" (Akhirat Account) بھر لیں۔

خدا کے لیے سوچئے! جب ہم قبر کے اندھیرے میں اکیلے ہوں گے، تو وہاں نہ ہماری ڈگری کام آئے گی، نہ ہمارا عہدہ اور نہ ہماری قیمتی گاڑی۔ وہاں صرف وہ سجدے کام آئیں گے جو ہم نے تنہائی میں کیے، اور وہ آنسو کام آئیں گے جو اللہ کے خوف سے گرے۔

آج ہی فیصلہ کیجیے: آپ مسافر بن کر رہنا چاہتے ہیں یا اس دنیا کا قیدی؟

"اے اللہ! ہمیں دنیا کو ویسا دکھا جیسی وہ حقیقت میں ہے، اور ہمیں آخرت کی فکر عطا فرما۔ آمین"

Tuesday, March 31, 2026

جھوٹ: ایک معاشرتی کینسر اور اس کے جدید فتنے تحریر: ندیم سہیل بمعاونت: مصنوعی ذہانت (AI)

 

جھوٹ کی حقیقت اور شرعی حیثیت

جھوٹ کیا ہے؟ جھوٹ سے مراد کسی بات کو حقیقت کے خلاف بیان کرنا ہے۔ یہ ناصرف اخلاقی پستی ہے بلکہ اسلام میں اسے "تمام برائیوں کی جڑ" اور منافقت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ مومن سے بشری تقاضوں کے تحت خطا ہو سکتی ہے، وہ بزدل یا بخیل ہو سکتا ہے، لیکن وہ کذاب (جھوٹا) نہیں ہو سکتا۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں: اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں کو اپنی ہدایت سے محروم اور مستحقِ لعنت قرار دیا ہے:

"بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا اور بڑا جھوٹا ہو۔" (سورۃ الغافر: 28

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

"پس بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو۔" (سورۃ الحج: 30)۔ یہاں جھوٹ کو بت پرستی کے ساتھ ذکر کرنا اس کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے، اور جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی آگ تک پہنچا دیتا ہے۔"صحیح بخاری

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل جھوٹ کے جدید روپ

موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے جھوٹ کو ایک نئی اور خطرناک جہت دے دی ہے۔ اب ایک جھوٹ صرف چند لوگوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔

  1. فیک نیوز (Fake News): بغیر تحقیق کے کسی خبر کو محض لائکس یا شیئرز کے لیے پھیلا دینا جھوٹ کی بدترین قسم ہے۔ حدیث میں آتا ہے: "کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔" صحیح مسلم
  2. کلک بیٹ (Clickbait): یوٹیوب یا فیس بک پر گمراہ کن تھمب نیلز اور عنوانات لگانا، تاکہ لوگ کلک کریں، سراسر دھوکہ دہی ہے۔ یہ ناظرین کے وقت کی چوری اور شرعی لحاظ سے ناجائز "غش" (دھوکہ) کے زمرے میں آتا ہے۔
  3. تجارت میں جھوٹ: آن لائن کاروبار میں اپنی مصنوعات کے بارے میں غلط بیانی کرنا یا جعلی ریویوز (Fake Reviews) لکھوانا رزق کی برکت کو ختم کر دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔"
  4. سوشل میڈیا کا عذاب: معراج کے واقعے میں آپ ﷺ نے اس شخص کا انجام دیکھا جس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا، وہ وہی شخص تھا جو ایسی جھوٹی خبر پھیلاتا تھا جو "آفاق" (دنیا کے کناروں) تک پہنچ جاتی تھی۔ آج ایک "وائرل" جھوٹی پوسٹ اسی وعید کے زمرے میں آتی ہے۔

مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیپ فیک (Deepfake) کا فتنہ

ٹیکنالوجی کے ارتقاء نے "ڈیجیٹل بہتان" کو جنم دیا ہے، جس کی روک تھام اب ہر مسلمان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

  1. ڈیپ فیک (Deepfake): مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی کی آواز یا چہرہ استعمال کر کے جعلی ویڈیو بنانا ناصرف جھوٹ ہے بلکہ یہ بہتانِ عظیم ہے۔ کسی بے گناہ شخص کی عزت اچھالنا اسلام میں کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن کا حکم ہے: "جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں... ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے۔" سورۃ النور: 23
  2. اے آئی (AI) اور حقائق کی مسخ: AI کے ذریعے جعلی اعداد و شمار یا تصاویر تخلیق کرنا تاکہ کسی قوم یا گروہ کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا سکے، معاشرے میں فتنہ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین ہے۔" سورۃ البقرہ: 191
  3. تصدیق کا قرآنی اصول: ڈیجیٹل دور میں ہر مسلمان کو اس قرآنی اصول پر عمل کرنا چاہیے:

"اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو۔" سورۃ الحجرات: 06

وہ مخصوص صورتیں جہاں (مصلحت کے تحت) گنجائش ہے

اسلام ایک دینِ فطرت ہے، اس لیے بعض ایسی سنگین صورتحال جہاں سچ بولنے سے کسی کی جان جا سکتی ہو یا کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہو سکتا ہو، وہاں شریعت نے مخصوص حدود میں رہتے ہوئے مصلحت کی اجازت دی ہے۔ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے (صحیح بخاری)۔ علماء کی روشنی میں درج ذیل تین صورتوں میں گنجائش موجود ہے:

  1. میاں بیوی کے درمیان صلح: گھر بچانے اور محبت بڑھانے کی خاطر ایسی بات کرنا جو تلخی کو ختم کر دے۔
  2. دو مسلمانوں میں صلح کروانا: دشمنی ختم کرنے کے لیے فریقین کے بارے میں خیر کی باتیں منسوب کرنا۔
  3. جنگ کے دوران حکمتِ عملی: دشمن سے اپنی جان و مال اور راز محفوظ رکھنے کے لیے چال چلنا۔

تنبیہ: یہ اجازت صرف بڑے شر کو روکنے کے لیے ہے۔ اسے ذاتی مفاد، کاروبار میں دھوکہ دہی، یا کسی کا حق مارنے کے لیے استعمال کرنا قطعاً حرام ہے۔

اختتامیہ

جھوٹ چاہے زبان سے ہو یا ڈیجیٹل آلات (AI) کے ذریعے، اس کا انجام دنیا میں ذلت اور آخرت میں رسوائی ہے۔ ایک مومن کی پہچان اس کی سچائی اور امانت داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ڈیجیٹل زندگی میں بھی وہی سچائی اپنائیں جس کا حکم ہمیں قرآن و سنت نے دیا ہے۔

دعا: اللہ تعالیٰ ہمیں قولِ سدید (سچی بات) کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زبانوں، قلم اور ڈیجیٹل آلات کو فتنہ و جھوٹ سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

Monday, March 30, 2026

نیکیوں کی ڈکیتی: مردہ بھائی کا گوشت کب تک؟ تحریر: ندیم سہیل

 


نیکیوں کی ڈکیتی: مردہ بھائی کا گوشت کب تک؟

تحریر: ندیم سہیل

قیامت کے دن جب میزانِ عدل قائم ہوگا، تو بہت سے لوگ اپنی نمازوں، روزوں اور حج کے انبار لے کر آئیں گے۔ وہ اپنی نیکیوں پر مطمئن ہوں گے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیکیاں دوسروں کے نامہ اعمال میں منتقل ہونا شروع ہو جائیں گی۔ وہ شخص اللہ کی عدالت میں "مفلس" قرار دیا جائے گا جس نے دنیا میں اپنی زبان سے دوسروں کی عزتوں پر ڈاکے ڈالے تھے۔

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جس زبان سے ہم کلمہ پڑھتے ہیں، وہی زبان کسی کے مردہ بھائی کا گوشت نوچنے کا آلہ کیسے بن جاتی ہے؟

غیبت کی تعریف: فرمانِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

ہمارے پیارے نبی ﷺ نے غیبت کی جو تعریف بیان فرمائی، وہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟" انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار گزرے۔" کسی نے عرض کیا: اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ عیب اس میں موجود ہے تو ہی تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ عیب اس میں نہیں ہے (جو تم بیان کر رہے ہو) تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔" (صحیح مسلم: 2589)

غیبت: قرآن کی کڑی تنبیہ

اللہ رب العزت نے غیبت کی شناعت اور اس کی گندگی کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اس سے نفرت کرتے ہو" (سورۃ الحجرات: 12)

غیبت صرف ایک عام گناہ نہیں، بلکہ ایک ایسی "گھناؤنی جبلت" ہے جو انسان کو درندگی کی سطح پر لے آتی ہے۔ جب ہم کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی اخلاقی موت کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔

سیاستدان اور مذہبی رہنما: کیا ان کی غیبت جائز ہے؟

آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم جن حکمرانوں، سیاستدانوں یا مذہبی رہنماؤں سے سیاسی یا نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں، ان کی برائی کرنا، ان پر بلا تحقیق الزامات لگانا اور ان کا تمسخر اڑانا ہم اپنا "حق" اور "ثواب" سمجھتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک ہولناک حقیقت چھپی ہے:

  • اپنے دشمن کا فائدہ: کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ہم کسی حکمران یا لیڈر کی پیٹھ پیچھے برائی (غیبت) کرتے ہیں یا اس پر بہتان باندھتے ہیں، تو ہم اپنی قیمتی نیکیاں اس شخص کے نامہ اعمال میں منتقل کر رہے ہوتے ہیں جس سے ہمیں سخت نفرت ہے۔
  • خالی ہاتھ رہ جانے کا ڈر: کہیں ایسا نہ ہو کہ جن لوگوں کو ہم ملک و قوم کا لٹیرا سمجھتے ہیں، کل قیامت کے دن وہ ہماری نیکیوں کے مالک بن کر بیٹھ جائیں اور ہم بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں۔ ہم ان کی غیبت کر کے دراصل ان کا بوجھ ہلکا اور اپنا بوجھ بڑھا رہے ہوتے ہیں۔
  • بہتان کی ہولناکی: اگر وہ برائی اس شخص میں موجود نہ ہو جو ہم بیان کر رہے ہیں، تو یہ بہتان ہے، جس کا عذاب غیبت سے بھی شدید ہے۔ سوشل میڈیا پر سنی سنائی باتوں کو شیئر کرنا اسی زمرے میں آتا ہے۔

کلمہ حق بمقابلہ غیبت: فرق پہچانیں

بہت سے لوگ غیبت کو "سیاسی شعور" یا "حق گوئی" کا نام دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، اسلام نے ان دونوں میں واضح فرق رکھا ہے:

  1. کلمہ حق: حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق "افضل جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے"۔ یعنی حق بات وہ ہے جو حاکم کے سامنے اس کی اصلاح کے لیے کہی جائے، نہ کہ چائے خانوں یا فیس بک کی دیواروں پر اس کی ذاتی زندگی کا تماشہ بنایا جائے۔
  2. حقیقت جانیے: تعمیری تنقید اور غیبت میں فرق ہے۔ پالیسیوں پر بات کرنا الگ ہے، لیکن کسی کی ذات، خاندان یا پوشیدہ عیبوں کو اچھالنا سراسر غیبت ہے جو آپ کی آخرت برباد کر دے گی۔

غیبت کی وہ صورتیں جو (شرعی طور پر) جائز ہیں

اسلام ایک عملی دین ہے، اس لیے بعض مخصوص حالات میں کسی کی برائی بیان کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے:

  • مظلوم کی دہائی: اگر کسی پر ظلم ہوا ہو، تو وہ ظالم کا نام لے کر اتھارٹی کے سامنے شکایت کر سکتا ہے۔
  • اصلاح کی نیت: کسی ایسے شخص کو بتانا جو اس برائی کو روکنے کی طاقت رکھتا ہو (مثلاً والدین کو بتانا تاکہ وہ بچے کی اصلاح کریں)۔
  • مشورہ مانگنے پر: اگر کوئی کسی سے شادی یا کاروبار کا ارادہ رکھتا ہو اور آپ سے مشورہ مانگے، تو سچی بات بتانا جائز بلکہ ضروری ہے تاکہ وہ دھوکہ نہ کھائے۔
  • اعلانیہ گناہ کرنے والا: جو شخص سرِ عام گناہ کرتا ہو اور اسے چھپاتا نہ ہو، اس کے اس گناہ کا تذکرہ تاکہ لوگ اس کے شر سے بچ سکیں۔

آئیے اپنی نیکیوں کی حفاظت کریں

دوستو! ہم تسبیح بھی پڑھتے ہیں اور غیبت بھی کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک ہاتھ سے برتن میں دودھ ڈالنا اور دوسرے ہاتھ سے نیچے سوراخ کر دینا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آخرت کی کمائی محفوظ رہے، تو ہمیں اپنی زبان اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پہرہ بٹھانا ہوگا۔

آج ہی ان تمام لوگوں سے معافی مانگ لیں جن کی ہم نے کبھی غیبت کی، کیونکہ اللہ کے دربار میں توبہ تب ہی قبول ہوگی جب بندہ راضی ہوگا۔ جیو بھائیو! مگر حقیقت جان کر، تاکہ کل ہمیں اپنے دشمنوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

اللہ ہم سب کو زبان کے فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔


دفاعِ اسلام اور عصرِ حاضر: خودداری اور تیاری کا راستہ تحریر: ندیم سہیل

 


آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر ڈالتے ہیں، تو ایک طرف ٹیکنالوجی کا غرور نظر آتا ہے اور دوسری طرف جذبہِ ایمانی کی حرارت۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے امتِ مسلمہ کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خاموشی کا مطلب اپنی تباہی پر دستخط کرنا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں پاکستان اور ایران کا کردار ایک روشن مینار کی طرح ابھرا ہے، جس سے پوری مسلم دنیا کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

قرآنی فلسفہ: "قوت" امن کی ضمانت ہے

قرآنِ کریم نے 14 سو سال پہلے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کا نسخہ بتا دیا تھا۔ سورہ الانفال کی آیت 60 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور ان کے لیے جتنا ہو سکے طاقت تیار کرو اور گھڑ سواروں کا انتظام کرو تاکہ تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو... ڈرا سکو۔"

یہاں "قوت" سے مراد ہر دور کا جدید ترین اسلحہ ہے۔ ایران نے گزشتہ 40 سالوں سے عالمی پابندیوں کی آگ میں تپ کر خود کو کندن بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو معاشی محاصرے آپ کی پرواز نہیں روک سکتے۔ آج ایران کے ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی نے صیہونی ریاست کے دفاعی نظام کے پرخچے اڑا کر ثابت کر دیا کہ "تیاری" ہی اصل دفاع ہے۔

مئی 2025: پاک فضائیہ کا تاریخی معرکہ اور بھارتی غرور کا خاتمہ

پاکستان کی تاریخ عسکری معجزوں سے بھری پڑی ہے، لیکن مئی 2025 کا فضائی معرکہ (Dogfight) تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ جب بھارت نے ایک بار پھر اپنی سرحدوں سے تجاوز کرنے کی کوشش کی، تو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے وہ کر دکھایا جس کی مثال جدید جنگی تاریخ میں نہیں ملتی۔

اس معرکے میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 6 جدید ترین جنگی طیاروں کو فضا ہی میں راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ نہ صرف یہ، بلکہ پاکستان نے اپنی جدید ترین الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت کے نام نہاد ناقابلِ تسخیر 'ایئر ڈیفنس سسٹم' کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔ یہ کامیابی صرف جہازوں کی نہیں تھی، بلکہ اس مہارت اور "تیاری" کی تھی جس کا حکم حدیثِ نبوی ﷺ میں دیا گیا ہے: "جنگ کی تیاری کی مشق کرو جیسے تم روزہ اور نماز کی مشق کرتے ہو" (صحیح مسلم)۔

اسرائیل، امریکہ اور "Absolutely Not" کا پیغام

پاکستان اور ایران کا مشترکہ خاصہ ان کی غیرت مندانہ سفارت کاری ہے۔ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے دو ٹوک انکار اور امریکہ کے سامنے "Absolutely Not" کہنا، دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ ہم صرف اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ یہ وہی جرات ہے جو ایران دکھا رہا ہے۔ اس کے برعکس، عرب دنیا وسائل کی ریل پیل کے باوجود ذلت اور رسوائی کا شکار کیوں ہے؟ اس کی بڑی وجہ قرآنی تعلیمات سے دوری اور اغیار کے اسلحے پر انحصار ہے۔

حدیثِ مبارکہ ہے: "طاقتور مومن اللہ کو کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے"۔ جب تک عرب ممالک اپنی دولت کو دفاعی خود انحصاری کے بجائے تعیشات پر خرچ کریں گے، وہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکیں گے۔

حاصلِ کلام: وقتِ بیداری

آج وقت کا تقاضا ہے کہ پوری مسلم دنیا پاکستان کی عسکری مہارت اور ایران کی استقامت سے سیکھے۔ اگر پاکستان محدود وسائل میں رہ کر 6 بھارتی طیارے گرا سکتا ہے اور ایران دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود اسرائیل کو لرزہ براندام کر سکتا ہے، تو پورے عالمِ اسلام کا اتحاد کیا کچھ نہیں کر سکتا؟

ذلت کا راستہ "انحصار" ہے اور عزت کا راستہ "تیاری" ہے۔ مئی 2025 کے معرکے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب جنگیں صرف تعداد سے نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، ایمان اور بروقت تیاری سے جیتی جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور اپنی "قوت" کو مجتمع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔