Monday, March 30, 2026

دفاعِ اسلام اور عصرِ حاضر: خودداری اور تیاری کا راستہ تحریر: ندیم سہیل

 


آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر ڈالتے ہیں، تو ایک طرف ٹیکنالوجی کا غرور نظر آتا ہے اور دوسری طرف جذبہِ ایمانی کی حرارت۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے امتِ مسلمہ کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خاموشی کا مطلب اپنی تباہی پر دستخط کرنا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں پاکستان اور ایران کا کردار ایک روشن مینار کی طرح ابھرا ہے، جس سے پوری مسلم دنیا کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

قرآنی فلسفہ: "قوت" امن کی ضمانت ہے

قرآنِ کریم نے 14 سو سال پہلے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کا نسخہ بتا دیا تھا۔ سورہ الانفال کی آیت 60 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور ان کے لیے جتنا ہو سکے طاقت تیار کرو اور گھڑ سواروں کا انتظام کرو تاکہ تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو... ڈرا سکو۔"

یہاں "قوت" سے مراد ہر دور کا جدید ترین اسلحہ ہے۔ ایران نے گزشتہ 40 سالوں سے عالمی پابندیوں کی آگ میں تپ کر خود کو کندن بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو معاشی محاصرے آپ کی پرواز نہیں روک سکتے۔ آج ایران کے ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی نے صیہونی ریاست کے دفاعی نظام کے پرخچے اڑا کر ثابت کر دیا کہ "تیاری" ہی اصل دفاع ہے۔

مئی 2025: پاک فضائیہ کا تاریخی معرکہ اور بھارتی غرور کا خاتمہ

پاکستان کی تاریخ عسکری معجزوں سے بھری پڑی ہے، لیکن مئی 2025 کا فضائی معرکہ (Dogfight) تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ جب بھارت نے ایک بار پھر اپنی سرحدوں سے تجاوز کرنے کی کوشش کی، تو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے وہ کر دکھایا جس کی مثال جدید جنگی تاریخ میں نہیں ملتی۔

اس معرکے میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 6 جدید ترین جنگی طیاروں کو فضا ہی میں راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ نہ صرف یہ، بلکہ پاکستان نے اپنی جدید ترین الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت کے نام نہاد ناقابلِ تسخیر 'ایئر ڈیفنس سسٹم' کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔ یہ کامیابی صرف جہازوں کی نہیں تھی، بلکہ اس مہارت اور "تیاری" کی تھی جس کا حکم حدیثِ نبوی ﷺ میں دیا گیا ہے: "جنگ کی تیاری کی مشق کرو جیسے تم روزہ اور نماز کی مشق کرتے ہو" (صحیح مسلم)۔

اسرائیل، امریکہ اور "Absolutely Not" کا پیغام

پاکستان اور ایران کا مشترکہ خاصہ ان کی غیرت مندانہ سفارت کاری ہے۔ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے دو ٹوک انکار اور امریکہ کے سامنے "Absolutely Not" کہنا، دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ ہم صرف اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ یہ وہی جرات ہے جو ایران دکھا رہا ہے۔ اس کے برعکس، عرب دنیا وسائل کی ریل پیل کے باوجود ذلت اور رسوائی کا شکار کیوں ہے؟ اس کی بڑی وجہ قرآنی تعلیمات سے دوری اور اغیار کے اسلحے پر انحصار ہے۔

حدیثِ مبارکہ ہے: "طاقتور مومن اللہ کو کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے"۔ جب تک عرب ممالک اپنی دولت کو دفاعی خود انحصاری کے بجائے تعیشات پر خرچ کریں گے، وہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکیں گے۔

حاصلِ کلام: وقتِ بیداری

آج وقت کا تقاضا ہے کہ پوری مسلم دنیا پاکستان کی عسکری مہارت اور ایران کی استقامت سے سیکھے۔ اگر پاکستان محدود وسائل میں رہ کر 6 بھارتی طیارے گرا سکتا ہے اور ایران دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود اسرائیل کو لرزہ براندام کر سکتا ہے، تو پورے عالمِ اسلام کا اتحاد کیا کچھ نہیں کر سکتا؟

ذلت کا راستہ "انحصار" ہے اور عزت کا راستہ "تیاری" ہے۔ مئی 2025 کے معرکے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب جنگیں صرف تعداد سے نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، ایمان اور بروقت تیاری سے جیتی جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور اپنی "قوت" کو مجتمع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔