قوت اور اتحاد: مشرق وسطیٰ کی نئی راہ — پاکستان، ایران اور امتِ مسلمہ کا مستقبل
آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر ڈالتے ہیں، تو ایک طرف ٹیکنالوجی کا غرور نظر آتا ہے اور دوسری طرف جذبہِ ایمانی کی حرارت۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے امتِ مسلمہ کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خاموشی کا مطلب اپنی تباہی پر دستخط کرنا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں پاکستان اور ایران کا کردار ایک روشن مینار کی طرح ابھرا ہے، جس سے پوری مسلم دنیا کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔
یہاں "قوت" سے مراد ہر دور کا جدید ترین اسلحہ ہے۔ ایران نے گزشتہ 40 سالوں سے عالمی پابندیوں کی آگ میں تپ کر خود کو کندن بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو معاشی محاصرے آپ کی پرواز نہیں روک سکتے۔ آج ایران کے ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی نے صیہونی ریاست کے دفاعی نظام کے پرخچے اڑا کر ثابت کر دیا کہ "تیاری" ہی اصل دفاع ہے۔
پاکستان کی تاریخ عسکری معجزوں سے بھری پڑی ہے، لیکن مئی 2025 کا فضائی معرکہ (Dogfight) تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ جب بھارت نے ایک بار پھر اپنی سرحدوں سے تجاوز کرنے کی کوشش کی، تو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے وہ کر دکھایا جس کی مثال جدید جنگی تاریخ میں نہیں ملتی۔
اس معرکے میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 6 جدید ترین جنگی طیاروں کو فضا ہی میں راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ نہ صرف یہ، بلکہ پاکستان نے اپنی جدید ترین الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت کے نام نہاد ناقابلِ تسخیر 'ایئر ڈیفنس سسٹم' کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔ یہ کامیابی صرف جہازوں کی نہیں تھی، بلکہ اس مہارت اور "تیاری" کی تھی جس کا حکم حدیثِ نبوی ﷺ میں دیا گیا ہے:
پاکستان اور ایران کا مشترکہ خاصہ ان کی غیرت مندانہ سفارت کاری ہے۔ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے دو ٹوک انکار اور امریکہ کے سامنے "Absolutely Not" کہنا، دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ ہم صرف اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ یہ وہی جرات ہے جو ایران دکھا رہا ہے۔ اس کے برعکس، عرب دنیا وسائل کی ریل پیل کے باوجود ذلت اور رسوائی کا شکار کیوں ہے؟ اس کی بڑی وجہ قرآنی تعلیمات سے دوری اور اغیار کے اسلحے پر انحصار ہے۔
جب تک عرب ممالک اپنی دولت کو دفاعی خود انحصاری کے بجائے تعیشات پر خرچ کریں گے، وہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکیں گے۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ پوری مسلم دنیا پاکستان کی عسکری مہارت اور ایران کی استقامت سے سیکھے۔ اگر پاکستان محدود وسائل میں رہ کر 6 بھارتی طیارے گرا سکتا ہے اور ایران دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود اسرائیل کو لرزہ براندام کر سکتا ہے، تو پورے عالمِ اسلام کا اتحاد کیا کچھ نہیں کر سکتا؟
No comments:
Post a Comment