جھوٹ کی حقیقت اور شرعی حیثیت: ڈیجیٹل دور میں سچائی کی پکار
جھوٹ کیا ہے؟ جھوٹ سے مراد کسی بات کو حقیقت کے خلاف بیان کرنا ہے۔ یہ ناصرف اخلاقی پستی ہے بلکہ اسلام میں اسے "تمام برائیوں کی جڑ" اور منافقت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ مومن سے بشری تقاضوں کے تحت خطا ہو سکتی ہے، وہ بزدل یا بخیل ہو سکتا ہے، لیکن وہ کذاب (جھوٹا) نہیں ہو سکتا۔
یہاں جھوٹ کو بت پرستی کے ساتھ ذکر کرنا اس کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے جھوٹ کو ایک نئی اور خطرناک جہت دے دی ہے۔ اب ایک جھوٹ صرف چند لوگوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔
- فیک نیوز (Fake News): بغیر تحقیق کے کسی خبر کو محض لائکس یا شیئرز کے لیے پھیلا دینا جھوٹ کی بدترین قسم ہے۔ حدیث میں آتا ہے: "کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔" (صحیح مسلم)
- کلک بیٹ (Clickbait): یوٹیوب یا فیس بک پر گمراہ کن تھمب نیلز اور عنوانات لگانا، تاکہ لوگ کلک کریں، سراسر دھوکہ دہی ہے۔ یہ ناظرین کے وقت کی چوری اور شرعی لحاظ سے ناجائز "غش" (دھوکہ) کے زمرے میں آتا ہے۔
- تجارت میں جھوٹ: آن لائن کاروبار میں اپنی مصنوعات کے بارے میں غلط بیانی کرنا یا جعلی ریویوز (Fake Reviews) لکھوانا رزق کی برکت کو ختم کر دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔"
- سوشل میڈیا کا عذاب: معراج کے واقعے میں آپ ﷺ نے اس شخص کا انجام دیکھا جس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا، وہ وہی شخص تھا جو ایسی جھوٹی خبر پھیلاتا تھا جو "آفاق" (دنیا کے کناروں) تک پہنچ جاتی تھی۔ آج ایک "وائرل" جھوٹی پوسٹ اسی وعید کے زمرے میں آتی ہے۔
- ڈیپ فیک (Deepfake): مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی کی آواز یا چہرہ استعمال کر کے جعلی ویڈیو بنانا ناصرف جھوٹ ہے بلکہ یہ بہتانِ عظیم ہے۔ کسی بے گناہ شخص کی عزت اچھالنا اسلام میں کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن کا حکم ہے: "جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں... ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے۔" (سورۃ النور: 23)
- AI اور حقائق کی مسخ: AI کے ذریعے جعلی اعداد و شمار یا تصاویر تخلیق کرنا تاکہ کسی قوم یا گروہ کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا سکے، معاشرے میں فتنہ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین ہے۔" (سورۃ البقرہ: 191)
- تصدیق کا قرآنی اصول: ڈیجیٹل دور میں ہر مسلمان کو اس قرآنی اصول پر عمل کرنا چاہیے:
"اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو۔" (سورۃ الحجرات: 06)
اسلام ایک دینِ فطرت ہے، اس لیے بعض ایسی سنگین صورتحال جہاں سچ بولنے سے کسی کی جان جا سکتی ہو یا کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہو سکتا ہو، وہاں شریعت نے مخصوص حدود میں رہتے ہوئے مصلحت کی اجازت دی ہے۔ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے (صحیح بخاری)۔ علماء کی روشنی میں درج ذیل تین صورتوں میں گنجائش موجود ہے:
- میاں بیوی کے درمیان صلح: گھر بچانے اور محبت بڑھانے کی خاطر ایسی بات کرنا جو تلخی کو ختم کر دے۔
- دو مسلمانوں میں صلح کروانا: دشمنی ختم کرنے کے لیے فریقین کے بارے میں خیر کی باتیں منسوب کرنا۔
- جنگ کے دوران حکمتِ عملی: دشمن سے اپنی جان و مال اور راز محفوظ رکھنے کے لیے چال چلنا۔
جھوٹ چاہے زبان سے ہو یا ڈیجیٹل آلات (AI) کے ذریعے، اس کا انجام دنیا میں ذلت اور آخرت میں رسوائی ہے۔ ایک مومن کی پہچان اس کی سچائی اور امانت داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ڈیجیٹل زندگی میں بھی وہی سچائی اپنائیں جس کا حکم ہمیں قرآن و سنت نے دیا ہے۔
No comments:
Post a Comment