Tuesday, March 31, 2026

جھوٹ: ایک معاشرتی کینسر اور اس کے جدید فتنے تحریر: ندیم سہیل بمعاونت: مصنوعی ذہانت (AI)

 

جھوٹ کی حقیقت اور شرعی حیثیت

جھوٹ کیا ہے؟ جھوٹ سے مراد کسی بات کو حقیقت کے خلاف بیان کرنا ہے۔ یہ ناصرف اخلاقی پستی ہے بلکہ اسلام میں اسے "تمام برائیوں کی جڑ" اور منافقت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ مومن سے بشری تقاضوں کے تحت خطا ہو سکتی ہے، وہ بزدل یا بخیل ہو سکتا ہے، لیکن وہ کذاب (جھوٹا) نہیں ہو سکتا۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں: اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں کو اپنی ہدایت سے محروم اور مستحقِ لعنت قرار دیا ہے:

"بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا اور بڑا جھوٹا ہو۔" (سورۃ الغافر: 28

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

"پس بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو۔" (سورۃ الحج: 30)۔ یہاں جھوٹ کو بت پرستی کے ساتھ ذکر کرنا اس کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے، اور جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی آگ تک پہنچا دیتا ہے۔"صحیح بخاری

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل جھوٹ کے جدید روپ

موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے جھوٹ کو ایک نئی اور خطرناک جہت دے دی ہے۔ اب ایک جھوٹ صرف چند لوگوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔

  1. فیک نیوز (Fake News): بغیر تحقیق کے کسی خبر کو محض لائکس یا شیئرز کے لیے پھیلا دینا جھوٹ کی بدترین قسم ہے۔ حدیث میں آتا ہے: "کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔" صحیح مسلم
  2. کلک بیٹ (Clickbait): یوٹیوب یا فیس بک پر گمراہ کن تھمب نیلز اور عنوانات لگانا، تاکہ لوگ کلک کریں، سراسر دھوکہ دہی ہے۔ یہ ناظرین کے وقت کی چوری اور شرعی لحاظ سے ناجائز "غش" (دھوکہ) کے زمرے میں آتا ہے۔
  3. تجارت میں جھوٹ: آن لائن کاروبار میں اپنی مصنوعات کے بارے میں غلط بیانی کرنا یا جعلی ریویوز (Fake Reviews) لکھوانا رزق کی برکت کو ختم کر دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔"
  4. سوشل میڈیا کا عذاب: معراج کے واقعے میں آپ ﷺ نے اس شخص کا انجام دیکھا جس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا، وہ وہی شخص تھا جو ایسی جھوٹی خبر پھیلاتا تھا جو "آفاق" (دنیا کے کناروں) تک پہنچ جاتی تھی۔ آج ایک "وائرل" جھوٹی پوسٹ اسی وعید کے زمرے میں آتی ہے۔

مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیپ فیک (Deepfake) کا فتنہ

ٹیکنالوجی کے ارتقاء نے "ڈیجیٹل بہتان" کو جنم دیا ہے، جس کی روک تھام اب ہر مسلمان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

  1. ڈیپ فیک (Deepfake): مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی کی آواز یا چہرہ استعمال کر کے جعلی ویڈیو بنانا ناصرف جھوٹ ہے بلکہ یہ بہتانِ عظیم ہے۔ کسی بے گناہ شخص کی عزت اچھالنا اسلام میں کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن کا حکم ہے: "جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں... ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے۔" سورۃ النور: 23
  2. اے آئی (AI) اور حقائق کی مسخ: AI کے ذریعے جعلی اعداد و شمار یا تصاویر تخلیق کرنا تاکہ کسی قوم یا گروہ کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا سکے، معاشرے میں فتنہ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین ہے۔" سورۃ البقرہ: 191
  3. تصدیق کا قرآنی اصول: ڈیجیٹل دور میں ہر مسلمان کو اس قرآنی اصول پر عمل کرنا چاہیے:

"اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو۔" سورۃ الحجرات: 06

وہ مخصوص صورتیں جہاں (مصلحت کے تحت) گنجائش ہے

اسلام ایک دینِ فطرت ہے، اس لیے بعض ایسی سنگین صورتحال جہاں سچ بولنے سے کسی کی جان جا سکتی ہو یا کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہو سکتا ہو، وہاں شریعت نے مخصوص حدود میں رہتے ہوئے مصلحت کی اجازت دی ہے۔ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے (صحیح بخاری)۔ علماء کی روشنی میں درج ذیل تین صورتوں میں گنجائش موجود ہے:

  1. میاں بیوی کے درمیان صلح: گھر بچانے اور محبت بڑھانے کی خاطر ایسی بات کرنا جو تلخی کو ختم کر دے۔
  2. دو مسلمانوں میں صلح کروانا: دشمنی ختم کرنے کے لیے فریقین کے بارے میں خیر کی باتیں منسوب کرنا۔
  3. جنگ کے دوران حکمتِ عملی: دشمن سے اپنی جان و مال اور راز محفوظ رکھنے کے لیے چال چلنا۔

تنبیہ: یہ اجازت صرف بڑے شر کو روکنے کے لیے ہے۔ اسے ذاتی مفاد، کاروبار میں دھوکہ دہی، یا کسی کا حق مارنے کے لیے استعمال کرنا قطعاً حرام ہے۔

اختتامیہ

جھوٹ چاہے زبان سے ہو یا ڈیجیٹل آلات (AI) کے ذریعے، اس کا انجام دنیا میں ذلت اور آخرت میں رسوائی ہے۔ ایک مومن کی پہچان اس کی سچائی اور امانت داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ڈیجیٹل زندگی میں بھی وہی سچائی اپنائیں جس کا حکم ہمیں قرآن و سنت نے دیا ہے۔

دعا: اللہ تعالیٰ ہمیں قولِ سدید (سچی بات) کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زبانوں، قلم اور ڈیجیٹل آلات کو فتنہ و جھوٹ سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

No comments:

Post a Comment