Monday, March 30, 2026

نیکیوں کی ڈکیتی: مردہ بھائی کا گوشت کب تک؟ تحریر: ندیم سہیل

 


نیکیوں کی ڈکیتی: مردہ بھائی کا گوشت کب تک؟

تحریر: ندیم سہیل

قیامت کے دن جب میزانِ عدل قائم ہوگا، تو بہت سے لوگ اپنی نمازوں، روزوں اور حج کے انبار لے کر آئیں گے۔ وہ اپنی نیکیوں پر مطمئن ہوں گے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیکیاں دوسروں کے نامہ اعمال میں منتقل ہونا شروع ہو جائیں گی۔ وہ شخص اللہ کی عدالت میں "مفلس" قرار دیا جائے گا جس نے دنیا میں اپنی زبان سے دوسروں کی عزتوں پر ڈاکے ڈالے تھے۔

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جس زبان سے ہم کلمہ پڑھتے ہیں، وہی زبان کسی کے مردہ بھائی کا گوشت نوچنے کا آلہ کیسے بن جاتی ہے؟

غیبت کی تعریف: فرمانِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

ہمارے پیارے نبی ﷺ نے غیبت کی جو تعریف بیان فرمائی، وہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟" انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار گزرے۔" کسی نے عرض کیا: اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ عیب اس میں موجود ہے تو ہی تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ عیب اس میں نہیں ہے (جو تم بیان کر رہے ہو) تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔" (صحیح مسلم: 2589)

غیبت: قرآن کی کڑی تنبیہ

اللہ رب العزت نے غیبت کی شناعت اور اس کی گندگی کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اس سے نفرت کرتے ہو" (سورۃ الحجرات: 12)

غیبت صرف ایک عام گناہ نہیں، بلکہ ایک ایسی "گھناؤنی جبلت" ہے جو انسان کو درندگی کی سطح پر لے آتی ہے۔ جب ہم کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی اخلاقی موت کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔

سیاستدان اور مذہبی رہنما: کیا ان کی غیبت جائز ہے؟

آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم جن حکمرانوں، سیاستدانوں یا مذہبی رہنماؤں سے سیاسی یا نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں، ان کی برائی کرنا، ان پر بلا تحقیق الزامات لگانا اور ان کا تمسخر اڑانا ہم اپنا "حق" اور "ثواب" سمجھتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک ہولناک حقیقت چھپی ہے:

  • اپنے دشمن کا فائدہ: کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ہم کسی حکمران یا لیڈر کی پیٹھ پیچھے برائی (غیبت) کرتے ہیں یا اس پر بہتان باندھتے ہیں، تو ہم اپنی قیمتی نیکیاں اس شخص کے نامہ اعمال میں منتقل کر رہے ہوتے ہیں جس سے ہمیں سخت نفرت ہے۔
  • خالی ہاتھ رہ جانے کا ڈر: کہیں ایسا نہ ہو کہ جن لوگوں کو ہم ملک و قوم کا لٹیرا سمجھتے ہیں، کل قیامت کے دن وہ ہماری نیکیوں کے مالک بن کر بیٹھ جائیں اور ہم بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں۔ ہم ان کی غیبت کر کے دراصل ان کا بوجھ ہلکا اور اپنا بوجھ بڑھا رہے ہوتے ہیں۔
  • بہتان کی ہولناکی: اگر وہ برائی اس شخص میں موجود نہ ہو جو ہم بیان کر رہے ہیں، تو یہ بہتان ہے، جس کا عذاب غیبت سے بھی شدید ہے۔ سوشل میڈیا پر سنی سنائی باتوں کو شیئر کرنا اسی زمرے میں آتا ہے۔

کلمہ حق بمقابلہ غیبت: فرق پہچانیں

بہت سے لوگ غیبت کو "سیاسی شعور" یا "حق گوئی" کا نام دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، اسلام نے ان دونوں میں واضح فرق رکھا ہے:

  1. کلمہ حق: حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق "افضل جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے"۔ یعنی حق بات وہ ہے جو حاکم کے سامنے اس کی اصلاح کے لیے کہی جائے، نہ کہ چائے خانوں یا فیس بک کی دیواروں پر اس کی ذاتی زندگی کا تماشہ بنایا جائے۔
  2. حقیقت جانیے: تعمیری تنقید اور غیبت میں فرق ہے۔ پالیسیوں پر بات کرنا الگ ہے، لیکن کسی کی ذات، خاندان یا پوشیدہ عیبوں کو اچھالنا سراسر غیبت ہے جو آپ کی آخرت برباد کر دے گی۔

غیبت کی وہ صورتیں جو (شرعی طور پر) جائز ہیں

اسلام ایک عملی دین ہے، اس لیے بعض مخصوص حالات میں کسی کی برائی بیان کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے:

  • مظلوم کی دہائی: اگر کسی پر ظلم ہوا ہو، تو وہ ظالم کا نام لے کر اتھارٹی کے سامنے شکایت کر سکتا ہے۔
  • اصلاح کی نیت: کسی ایسے شخص کو بتانا جو اس برائی کو روکنے کی طاقت رکھتا ہو (مثلاً والدین کو بتانا تاکہ وہ بچے کی اصلاح کریں)۔
  • مشورہ مانگنے پر: اگر کوئی کسی سے شادی یا کاروبار کا ارادہ رکھتا ہو اور آپ سے مشورہ مانگے، تو سچی بات بتانا جائز بلکہ ضروری ہے تاکہ وہ دھوکہ نہ کھائے۔
  • اعلانیہ گناہ کرنے والا: جو شخص سرِ عام گناہ کرتا ہو اور اسے چھپاتا نہ ہو، اس کے اس گناہ کا تذکرہ تاکہ لوگ اس کے شر سے بچ سکیں۔

آئیے اپنی نیکیوں کی حفاظت کریں

دوستو! ہم تسبیح بھی پڑھتے ہیں اور غیبت بھی کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک ہاتھ سے برتن میں دودھ ڈالنا اور دوسرے ہاتھ سے نیچے سوراخ کر دینا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آخرت کی کمائی محفوظ رہے، تو ہمیں اپنی زبان اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پہرہ بٹھانا ہوگا۔

آج ہی ان تمام لوگوں سے معافی مانگ لیں جن کی ہم نے کبھی غیبت کی، کیونکہ اللہ کے دربار میں توبہ تب ہی قبول ہوگی جب بندہ راضی ہوگا۔ جیو بھائیو! مگر حقیقت جان کر، تاکہ کل ہمیں اپنے دشمنوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

اللہ ہم سب کو زبان کے فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔


No comments:

Post a Comment