وہ شام کتنی دلفریب تھی، ہواؤں میں ایک عجیب سی سرگوشی
تھی جو کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ زویا کھڑکی کے پاس کھڑی باہر پھیلی وسعتوں کو
دیکھ رہی تھی جہاں پرندے بے فکری سے اڑ رہے تھے۔ اسے لگا کہ اس کے پیروں میں بندھی
محبت کی زنجیریں اسے ان بلندیوں تک پہنچنے سے روک رہی ہیں۔ اسے اپنے والد کی بار
بار کی نصیحتیں، بھائی کی فکر بھری نظریں اور شوہر کا وہ ٹوکنا کہ "دیر ہو
گئی ہے، گھر آ جاؤ" ایک بوجھ محسوس ہونے لگا۔ اسے لگا کہ وہ ایک قیدی ہے جس
کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔
پھر وہ وقت آیا جب اس نے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ وہ
ڈور کاٹ دی جو اسے برسوں سے تھامے ہوئے تھی۔ اسے لگا کہ آج وہ پہلی بار آزاد ہوئی
ہے۔ وہ ہوا کے دوش پر رقص کرنے لگی، بادلوں کو چھونے کے خواب دیکھنے لگی۔ بلندی کا
وہ نشہ ایسا تھا کہ اسے نیچے کھڑے اپنے پیاروں کے چہرے دھندلے نظر آنے لگے۔ اسے
لگا کہ اب وہ جہاں چاہے جا سکتی ہے، کوئی اسے کھینچنے والا نہیں، کوئی اسے روکنے
والا نہیں۔
لیکن جیسے ہی ہوا کا رخ بدلا، منظر بدل گیا۔ بغیر ڈور
کی وہ پتنگ جو اب تک فخر سے اڑ رہی تھی، اچانک لڑکھڑانے لگی۔ اسے احساس ہوا کہ اس
کے پاس اپنی کوئی سمت (Direction) نہیں
ہے۔ وہ بلند تو تھی، مگر بے بس تھی۔ ہوا اسے کبھی ایک دیوار سے ٹکراتی تو کبھی کسی
نوکیلے تار میں پھنسا دیتی۔ جن گلیوں کو وہ اوپر سے حسین سمجھ رہی تھی، وہاں اب
شکاری نظریں اس کے گرنے کا انتظار کر رہی تھیں۔ ہر وہ ہاتھ جو اسے پکڑنے کے لیے
بڑھا، اس میں اسے تھامنے کی تڑپ نہیں بلکہ اسے "لوٹنے" کی ہوس تھی۔ وہ
جو کبھی وقار کے ساتھ آسمان کا سینہ چیر رہی تھی، اب ایک "کٹی ہوئی
پتنگ" بن چکی تھی جسے گلی کے آوارہ لڑکے چھیننے کے لیے ایک دوسرے پر جھپٹ رہے
تھے۔
جب وہ بے جان ہو کر مٹی میں گری، تو اسے وہ ہاتھ یاد
آئے جو پسِ پردہ رہ کر اسے بلندی پر برقرار رکھتے تھے۔ اسے سمجھ آیا کہ وہ ڈور اسے
قید کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسے توازن دینے کے لیے تھی۔ وہ "چیک اینڈ
بیلنس" جو اسے پابندی لگتا تھا، دراصل اسے ان شکاریوں سے بچانے والی ڈھال
تھی۔
کٹی ہوئی پتنگ کا ماتم
میری عزیز بہنو! زندگی کے اس سفر میں باپ، بھائی، شوہر
اور بیٹا اس چرخی (Nut/Spool) کی
مانند ہیں جو آپ کے وقار کی ڈور کو تھامے رکھتے ہیں۔ جب تک آپ اس ڈور سے جڑی ہیں،
آپ آسمان کی زینت ہیں، آپ کا ایک مقام ہے، ایک عزت ہے۔ جس دن آپ اس ڈور کو بوجھ
سمجھ کر کاٹ دیں گی، آپ آزاد تو ہو جائیں گی مگر آپ کی حیثیت اس کٹی ہوئی پتنگ
جیسی ہو جائے گی جو ہوا کے تھمتے ہی زمین پر تذلیل کے لیے پھینک دی جاتی ہے۔ اپنی
قدر کیجیے اور ان رشتوں کو بوجھ نہیں، اپنی اڑان کی مضبوطی سمجھیے، کیونکہ بے سمت
اڑان اکثر عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔
No comments:
Post a Comment