صلہ رحمی: رشتوں کی سنہری ڈوری
جو رزق اور برکت کا دروازہ کھول دیتی ہے
ایک خاموش المیہ
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں رابطے تو بہت ہیں، مگر تعلق ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ واٹس ایپ کی لسٹ لمبی ہے، مگر دلوں کے درمیان دیواریں اونچی ہیں۔ ہم رزق کی تنگی کا رونا روتے ہیں، ذہنی سکون کے لیے در در کی خاک چھانتے ہیں، مگر وہ ایک "سنہرا راز" بھول بیٹھے ہیں جو ہماری دہلیز کے اندر موجود ہے: صلہ رحمی۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا اپنے ناراض رشتہ دار سے محض ایک بار مسکرا کر مل لینا آپ کے بند رزق کے دروازے کھول سکتا ہے؟
اسلامی اصطلاح میں "رحم" سے مراد وہ خونی رشتے ہیں جو ماں کے پیٹ سے جڑے ہیں۔ صلہ رحمی کا مطلب صرف اچھے کے ساتھ اچھا ہونا نہیں ہے، وہ تو ایک سماجی لین دین ہے۔ اصل صلہ رحمی وہ ہے جس کا ذکر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
آج کا انسان تھکن اور معاشی تنگی کا شکار ہے۔ حضور ﷺ نے اس کا علاج چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا:
یہ اللہ کا وعدہ ہے! جب آپ کسی رشتہ دار کی مالی مدد کرتے ہیں یا محض اسے عزت دے کر خوشی دیتے ہیں، تو کائنات کا نظام آپ کی زندگی میں برکت ڈالنے پر مامور کر دیا جاتا ہے۔
قطع تعلقی (رشتہ توڑنے) کا انجاماسلام میں بلاوجہ رشتہ توڑنا محض ایک معاشرتی برائی نہیں بلکہ "کبیرہ گناہ" ہے۔ قرآن مجید میں قطع تعلقی کرنے والوں پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔
- جنت سے محرومی: حضور ﷺ نے واضح طور پر فرمایا: "قطع تعلقی کرنے والا (رشتہ توڑنے والا) جنت میں داخل نہ ہوگا۔" (صحیح مسلم)
- دعا کی قبولیت میں رکاوٹ: جس مجلس یا خاندان میں قطع رحمی کرنے والا موجود ہو، وہاں اللہ کی رحمت نازل نہیں ہوتی۔ جب رحمت کا سایہ ہی اٹھ جائے تو زندگی میں سکون کہاں سے آئے گا؟
اگر کوئی رشتہ دار ایسا ہو جس کے ملنے سے آپ کے دین، ایمان یا جان و مال کو شدید خطرہ ہو، یا وہ بہت زیادہ فتنہ پرور ہو، تو ایسی صورت میں مکمل بائیکاٹ کے بجائے "فاصلہ" (Distance) اختیار کرنا بہتر ہے۔ آپ ان سے بہت زیادہ بے تکلف نہ ہوں لیکن سلام دعا کا رشتہ باقی رکھیں تاکہ آپ قطع رحمی کے گناہ سے بچ سکیں۔ مقصد دل میں نفرت پالنا نہیں بلکہ اپنے آپ کو نقصان سے بچانا ہونا چاہیے۔
صرف کسی کی ذاتی غلطی یا گناہ کی بنیاد پر رشتہ توڑنا جائز نہیں ہے۔ صلہ رحمی کا تقاضا یہ ہے کہ:
- اسے نرمی سے سمجھایا جائے۔
- اس کے لیے ہدایت کی دعا کی جائے۔
- اس کے گناہ سے نفرت کی جائے، مگر اس کی ذات کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔
جی ہاں! حضرت ابوبکر صدیقؓ اس رشتہ دار کی مالی مدد کرتے تھے جس نے حضرت عائشہؓ پر تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا۔ جب انسانی غیرت کے تحت آپؓ نے امداد بند کرنے کا سوچا تو اللہ نے قرآن میں حکم دیا کہ فضیلت والے لوگ اپنوں کو معاف کر دیا کریں۔ گناہ گار رشتہ دار کی صلہ رحمی اسے نیکی کی طرف لانے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔
صلہ رحمی کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب سامنے والا "بدتمیز" یا "احسان فراموش" ہو۔ اللہ کے لیے جھک جانا اور رشتہ برقرار رکھنا نفس پر بھاری ضرور ہے، لیکن یہی وہ عمل ہے جو انسان کو اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے۔
میرے عزیز بھائیو اور بہنو! انا (Ego) کی دیواریں ہمیں قبر تک لے جائیں گی مگر جنت تک نہیں۔ آج ہی اپنے اس رشتہ دار کو فون کریں جس سے سالوں سے بات نہیں ہوئی۔ یاد رکھیں، آپ یہ اس کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اللہ کی رضا، اپنے رزق کی برکت اور اپنی آخرت کے لیے کر رہے ہیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم "جوڑنے والے" بنیں گے، کیونکہ رشتوں کی زمین جب بنجر ہوتی ہے، تو نسلیں پیاسی رہ جاتی ہیں۔
No comments:
Post a Comment