Tuesday, April 14, 2026

رشتوں کی آبیاری: وسعتِ رزق اور لمبی زندگی کا وہ راز جو ہم بھول بیٹھے تحریر: ندیم سہیل

صلہ رحمی | رشتوں کی سنہری کلید | روحانی تحریر
رزق · برکت · روحانی اتصال

صلہ رحمی: رشتوں کی سنہری ڈوری
جو رزق اور برکت کا دروازہ کھول دیتی ہے

ایک خاموش المیہ — ہمارے پاس سو رابطے ہیں مگر ایک حقیقی تعلق کھو گیا ہے۔

ایک خاموش المیہ

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں رابطے تو بہت ہیں، مگر تعلق ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ واٹس ایپ کی لسٹ لمبی ہے، مگر دلوں کے درمیان دیواریں اونچی ہیں۔ ہم رزق کی تنگی کا رونا روتے ہیں، ذہنی سکون کے لیے در در کی خاک چھانتے ہیں، مگر وہ ایک "سنہرا راز" بھول بیٹھے ہیں جو ہماری دہلیز کے اندر موجود ہے: صلہ رحمی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا اپنے ناراض رشتہ دار سے محض ایک بار مسکرا کر مل لینا آپ کے بند رزق کے دروازے کھول سکتا ہے؟

صلہ رحمی کیا ہے؟ (ایک روحانی تعریف)

اسلامی اصطلاح میں "رحم" سے مراد وہ خونی رشتے ہیں جو ماں کے پیٹ سے جڑے ہیں۔ صلہ رحمی کا مطلب صرف اچھے کے ساتھ اچھا ہونا نہیں ہے، وہ تو ایک سماجی لین دین ہے۔ اصل صلہ رحمی وہ ہے جس کا ذکر نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو بدلے میں برابری کا سلوک کرے، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ جب اس سے قطع تعلقی (تعلق توڑنا) کی جائے تو وہ اسے جوڑ دے۔" (صحیح بخاری)
وہ برکات جن کے ہم پیاسے ہیں

آج کا انسان تھکن اور معاشی تنگی کا شکار ہے۔ حضور ﷺ نے اس کا علاج چودہ سو سال پہلے بتا دیا تھا:

"جسے یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر لمبی کی جائے، اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔" (صحیح بخاری)

یہ اللہ کا وعدہ ہے! جب آپ کسی رشتہ دار کی مالی مدد کرتے ہیں یا محض اسے عزت دے کر خوشی دیتے ہیں، تو کائنات کا نظام آپ کی زندگی میں برکت ڈالنے پر مامور کر دیا جاتا ہے۔

قطع تعلقی (رشتہ توڑنے) کا انجام

اسلام میں بلاوجہ رشتہ توڑنا محض ایک معاشرتی برائی نہیں بلکہ "کبیرہ گناہ" ہے۔ قرآن مجید میں قطع تعلقی کرنے والوں پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔

  • جنت سے محرومی: حضور ﷺ نے واضح طور پر فرمایا: "قطع تعلقی کرنے والا (رشتہ توڑنے والا) جنت میں داخل نہ ہوگا۔" (صحیح مسلم)
  • دعا کی قبولیت میں رکاوٹ: جس مجلس یا خاندان میں قطع رحمی کرنے والا موجود ہو، وہاں اللہ کی رحمت نازل نہیں ہوتی۔ جب رحمت کا سایہ ہی اٹھ جائے تو زندگی میں سکون کہاں سے آئے گا؟
عام فہمی اور اہم سوالات کے جوابات
1. کیا شر سے بچنے کے لیے قطع تعلقی کی جا سکتی ہے؟

اگر کوئی رشتہ دار ایسا ہو جس کے ملنے سے آپ کے دین، ایمان یا جان و مال کو شدید خطرہ ہو، یا وہ بہت زیادہ فتنہ پرور ہو، تو ایسی صورت میں مکمل بائیکاٹ کے بجائے "فاصلہ" (Distance) اختیار کرنا بہتر ہے۔ آپ ان سے بہت زیادہ بے تکلف نہ ہوں لیکن سلام دعا کا رشتہ باقی رکھیں تاکہ آپ قطع رحمی کے گناہ سے بچ سکیں۔ مقصد دل میں نفرت پالنا نہیں بلکہ اپنے آپ کو نقصان سے بچانا ہونا چاہیے۔

2. اگر رشتہ دار سے کوئی گناہ یا غلطی سرزد ہو جائے؟

صرف کسی کی ذاتی غلطی یا گناہ کی بنیاد پر رشتہ توڑنا جائز نہیں ہے۔ صلہ رحمی کا تقاضا یہ ہے کہ:

  • اسے نرمی سے سمجھایا جائے۔
  • اس کے لیے ہدایت کی دعا کی جائے۔
  • اس کے گناہ سے نفرت کی جائے، مگر اس کی ذات کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔
3. کیا گناہ گار رشتہ دار کے ساتھ صلہ رحمی ہو سکتی ہے؟

جی ہاں! حضرت ابوبکر صدیقؓ اس رشتہ دار کی مالی مدد کرتے تھے جس نے حضرت عائشہؓ پر تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا۔ جب انسانی غیرت کے تحت آپؓ نے امداد بند کرنے کا سوچا تو اللہ نے قرآن میں حکم دیا کہ فضیلت والے لوگ اپنوں کو معاف کر دیا کریں۔ گناہ گار رشتہ دار کی صلہ رحمی اسے نیکی کی طرف لانے کا بہترین ذریعہ بن سکتی ہے۔

خلاصہ کلام

صلہ رحمی کا اصل امتحان تب ہوتا ہے جب سامنے والا "بدتمیز" یا "احسان فراموش" ہو۔ اللہ کے لیے جھک جانا اور رشتہ برقرار رکھنا نفس پر بھاری ضرور ہے، لیکن یہی وہ عمل ہے جو انسان کو اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے۔

میرے عزیز بھائیو اور بہنو! انا (Ego) کی دیواریں ہمیں قبر تک لے جائیں گی مگر جنت تک نہیں۔ آج ہی اپنے اس رشتہ دار کو فون کریں جس سے سالوں سے بات نہیں ہوئی۔ یاد رکھیں، آپ یہ اس کے لیے نہیں، بلکہ اپنے اللہ کی رضا، اپنے رزق کی برکت اور اپنی آخرت کے لیے کر رہے ہیں۔

آئیے عہد کریں کہ ہم "جوڑنے والے" بنیں گے، کیونکہ رشتوں کی زمین جب بنجر ہوتی ہے، تو نسلیں پیاسی رہ جاتی ہیں۔

No comments:

Post a Comment