Friday, April 10, 2026

جنت سے دوری کا راستہ: چغل خوری کی حقیقت اور ڈیجیٹل فتنے کی ہولناکیاں تحریر: ندیم سہیل

چغل خوری | جنت سے دوری کا راستہ - ڈیجیٹل فتنہ
فتنہ · بدگمانی · جہنم کا راستہ

جنت سے دوری کا راستہ: چغل خوری کی حقیقت اور ڈیجیٹل فتنے کی ہولناکیاں

تحریر: ندیم سہیل

ادھر کی بات ادھر کرنا — ایک میٹھا زہر

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہمارے کانوں میں رس گھولنے والا وہ جملہ "تمہیں پتا ہے، وہ تمہارے بارے میں کیا کہہ رہا تھا؟" دراصل ایک ایسی چنگاری ہے جو برسوں کے اعتماد کو پل بھر میں بھسم کر دیتی ہے۔ چغل خوری محض ایک بری عادت نہیں، بلکہ ایک ایسا نفسیاتی اور اخلاقی سرطان ہے جو خاموشی سے ہنستے بستے گھروں، مضبوط خاندانوں اور گہرے یاروں کے درمیان نفرت کی ایسی دیوار کھڑی کر دیتا ہے جسے گرانا ناممکن ہو جاتا ہے۔

کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے:

برائی کر کے اپنوں کی، بڑا بننے کی کوشش نہ کر
جو شاخیں جڑ کو کاٹیں، وہ اکثر سوکھ جاتی ہیں
اسلام میں چغل خوری کی حقیقت اور سنگینی

اسلامی تعلیمات میں چغل خوری (نمیمہ) کو انتہائی قبیح فعل قرار دیا گیا ہے۔ یہ محض بات پہنچانا نہیں، بلکہ فساد کی نیت سے ایک کی بات دوسرے کو بتانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ایسے شخص کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:

"اور کسی ایسے شخص کا کہا نہ ماننا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل ہو، طعنے دینے والا، ادھر کی بات ادھر پہنچانے والا ہو۔" (سورۃ القلم: 10-11)

نبی کریم ﷺ نے اس کی ہولناکی کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:

"چغل خور جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔" (صحیح بخاری و مسلم)

سوچیے! جس گناہ کی پاداش میں جنت کے دروازے بند ہو جائیں، وہ کتنا ہولناک ہوگا۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ کا گزر دو قبروں کے پاس سے ہوا جنہیں عذاب ہو رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان میں سے ایک چغل خوری کرتا تھا۔

جدید چغل خوری کی ہولناکیاں: اسکرین شاٹس کا فتنہ

آج کے دور میں چغل خوری نے ڈیجیٹل لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ اب ادھر کی بات ادھر کرنے کے لیے محفلوں کی ضرورت نہیں رہی، بلکہ ٹیکنالوجی نے اسے مزید آسان اور خطرناک بنا دیا ہے:

  • پرائیویٹ چیٹ کے اسکرین شاٹس: کسی کے اعتماد کا قتل کرتے ہوئے اس کی ذاتی گفتگو کے اسکرین شاٹس دوسروں کو بھیجنا 'جدید چغل خوری' کی بدترین شکل ہے۔
  • خفیہ ریکارڈنگز: فون کالز ریکارڈ کر کے کسی کی برائی پھیلانا یا اسے بلیک میل کرنا۔
  • تضحیک آمیز میمز (Memes): کسی کی ذاتی زندگی یا خامیوں کو مذاق بنا کر وائرل کرنا۔
  • اسٹیٹس اور اسٹوریز کے ذریعے طنز: براہِ راست نام لیے بغیر ایسی بات لکھنا جس سے دو لوگوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوں۔
نظر آتی نہیں لیکن لگی ہے آگ بستی میں
کسی نے شہر میں شاید کوئی کچی خبر دی ہے
معاشرتی اور انفرادی اثرات: تباہی کا راستہ

چغل خوری کسی ایٹم بم سے کم نہیں ہوتی، جو خاموشی سے پھٹتا ہے اور سب کچھ راکھ کر دیتا ہے:

  • فرد کی زندگی: چغل خور اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔ لوگ اس سے ملتے تو ہیں مگر اس پر بھروسہ نہیں کرتے۔ وہ اندرونی طور پر ہمیشہ بے سکون رہتا ہے۔
  • خاندان: بھائی کو بھائی سے، ساس کو بہو سے اور میاں کو بیوی سے بدظن کرنا چغل خور کا پسندیدہ مشغلہ ہے، جس کا انجام طلاقوں اور خاندانی بائیکاٹ کی صورت میں نکلتا ہے۔
  • قوم و معاشرہ: جب معاشرے میں بدگمانی جڑ پکڑ لیتی ہے تو اتحاد ختم ہو جاتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں لگ جاتے ہیں اور اجتماعی ترقی رک جاتی ہے۔
ایک سبق آموز واقعہ: ایک جھوٹ، سو جنازے

روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا جو بہت محنتی تھا، مگر بیچنے والے نے شرط رکھی کہ اس میں ایک ہی عیب ہے کہ یہ چغل خور ہے۔ خریدار نے اسے معمولی سمجھ کر خرید لیا۔ کچھ دن بعد غلام نے مالکن سے کہا: "تمہارا شوہر دوسری شادی کرنا چاہتا ہے، اگر تم چاہتی ہو وہ تمہارا ہو کر رہے تو رات کو استرے سے اس کے گلے کے کچھ بال کاٹ کر مجھے لا دو۔" پھر مالک سے جا کر کہا: "تمہاری بیوی کسی اور سے ملتی ہے اور آج رات تمہیں قتل کر دے گی۔"

رات کو جب بیوی استرا لے کر بال کاٹنے لگی، تو شوہر جو جاگ رہا تھا، سمجھا کہ یہ واقعی قتل کرنے آئی ہے۔ اس نے اٹھ کر بیوی کو قتل کر دیا، پھر بیوی کے گھر والوں نے شوہر کو، اور یوں دو قبیلے آپس میں لڑ پڑے اور سینکڑوں جانیں صرف ایک چغل خور کی زبان کی نذر ہو گئیں۔

توبہ کا وقت

چغل خوری وہ آگ ہے جو نیکیوں کو ایسے کھا جاتی ہے جیسے خشک لکڑی کو آگ۔ اگر ہم نے آج اپنی زبانوں اور موبائل کی انگلیوں پر قابو نہ پایا، تو دنیا میں تنہائی اور آخرت میں ذلت ہمارا مقدر ہوگی۔ یاد رکھیں، جو آپ کے سامنے دوسروں کی برائی کرتا ہے، وہ دوسروں کے سامنے آپ کی برائی بھی ضرور کرتا ہو گا۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے:
"چغل خور جس فتنے کو ایک گھنٹے میں برپا کرتا ہے، جادوگر اسے مہینوں میں بھی نہیں کر سکتا۔"

آئیے آج ہی عہد کریں کہ ہم نہ خود چغل خوری کریں گے، نہ ایسے لوگوں کی باتوں پر کان دھریں گے۔ یاد رکھیے، جو زبان دنیا میں آگ لگاتی ہے، وہی آخرت میں جہنم کا ایندھن بنتی ہے۔

No comments:

Post a Comment