لہو رنگ فلسطین اور فتحِ مکہ کا وہ نور: کہاں ہے انسانیت کا علمبردار؟
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب طاقت اندھی ہو جائے تو ہنستی بستی بستیاں قبرستان کیسے بن جاتی ہیں؟ اور جب یہی طاقت "رحمتِ عالم ﷺ" کے ہاتھوں میں ہو تو خون کے پیاسے دشمن بھی سینے سے کیسے لگ جاتے ہیں؟ آج دنیا کے نقشے پر دو متضاد تصویریں ابھر رہی ہیں۔ ایک طرف وہ مکہ ہے جہاں انتقام کی آگ کو معافی کے ٹھنڈے پانی سے بجھایا گیا، اور دوسری طرف آج کا غزہ، فلسطین اور ایران کا منظر ہے، جہاں "جدید سپر پاورز" نے انسانی اخلاقیات کو ملبے کے ڈھیر تلے دفن کر دیا ہے۔
8 ہجری کا وہ سورج یاد کریں جب دس ہزار قدوسیوں کا لشکر مکہ میں داخل ہو رہا تھا۔ یہ وہی مکہ تھا جس کی گلیوں میں مسلمانوں کا ناحق خون بہایا گیا، جہاں بیٹیوں کو رلایا گیا اور جہاں سے اللہ کے نبی ﷺ کو ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ آج بدلے کا دن تھا، حساب برابر کرنے کا دن تھا... لیکن تاریخ نے دیکھا کہ فاتحِ عالم ﷺ کا سرِ مبارک اونٹنی کی پشت پر عجز سے اتنا جھکا ہوا تھا کہ کجاوے سے لگ رہا تھا۔
محمد مصطفیٰ ﷺ نے جنگی اخلاقیات کا جو معیار سیٹ کیا، وہ آج کی دنیا کے لیے ایک طمانچہ ہے:
- عام معافی کا معجزہ: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔" وہ دشمن جو جان کے پیاسے تھے، اس ایک جملے نے ان کی نسلوں کو غلام بنا لیا۔
- قیدیوں کا پروٹوکول: قیدیوں کو وہ کھانا کھلایا جاتا جو مجاہدین خود کھاتے تھے۔ ان کی تذلیل تو دور کی بات، ان کی بھوک اور لباس کا خیال رکھنا عین عبادت قرار پایا۔
- جنگی ضابطے: واضح حکم تھا کہ کسی بوڑھے، عورت، بچے یا نہتے شخص پر ہاتھ نہیں اٹھے گا۔ ہرا بھرا درخت نہیں کاٹا جائے گا، فصلیں نہیں جلائی جائیں گی، اور دشمن کی عبادت گاہیں بھی ویسی ہی محترم رہیں گی جیسی مسلمانوں کی مساجد۔
اب ذرا آنکھیں کھول کر آج کی نام نہاد مہذب دنیا اور "سپر پاورز" کے رویوں کو دیکھیے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جیسے قدیم تمدن کے خلاف جو زبان استعمال کی، وہ کسی سربراہِ مملکت کی نہیں بلکہ کسی سفاک حملہ آور کی تھی۔ بجلی گھروں، پلوں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنانا اور شہری آبادی کو ڈرانا دھمکانا — کیا یہی وہ انسانی حقوق ہیں جن کا ڈھنڈورا مغرب پیٹتا ہے؟
اسرائیل اور مغربی استبداد کا دہرا معیار:
آج غزہ کا 90 فیصد انفراسٹرکچر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ وہ بچے جو کل تک سکول جانے کے خواب دیکھتے تھے، آج کھلے آسمان تلے اپنے والدین کے اعضاء چن رہے ہیں۔
- بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں: جنیوا کنونشن چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ ہسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں پر بمباری "جنگی جرم" ہے، لیکن اسرائیل اور امریکہ کے لیے یہ قوانین صرف کمزور ملکوں کو دبانے کے لیے ہیں۔
- عالمی خاموشی کا المیہ: جب کسی یورپی ملک میں ایک پرندے کو تکلیف پہنچتی ہے تو پوری دنیا کا میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے، لیکن جب فلسطین کی مائیں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھائے کھلے آسمان تلے روتی ہیں، تو یہ "انسانی حقوق کے چیمپیئنز" گونگے اور بہرے بن جاتے ہیں۔ یہ جنگل کا قانون نہیں تو اور کیا ہے؟
| پہلو | نبوی جنگی اخلاقیات (فتح مکہ) | موجودہ سپر پاورز (امریکہ/اسرائیل) |
|---|---|---|
| قیدیوں کا حال | کھانا، کپڑا اور وقار عطا کیا گیا | تشدد (گوانتناموبے)، تذلیل اور قتل |
| شہری آبادی | سائے کی طرح تحفظ دیا گیا | ہسپتالوں، سکولوں اور گھروں پر بمباری |
| انفراسٹرکچر | ایک پودا اکھاڑنا بھی جرم تھا | پورے شہر ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے |
| زبان و بیان | عاجزی، دعا اور معافی | گالی گلوچ، دھمکیاں اور تکبر |
ذرا ایک لمحے کے لیے تصور کریں... آپ کے پاس چھت نہیں، پینے کو صاف پانی نہیں، اور آپ کی آغوش میں آپ کے معصوم بچے کی لاش ہے جس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا۔ وہ ماں جب آسمان کی طرف دیکھتی ہے تو اسے اقوامِ متحدہ کے دفاتر نہیں، بلکہ اللہ کی عدالت نظر آتی ہے۔
دنیا کی تمام سپر پاورز مل کر بھی اس ایک ماں کے آنسوؤں کا حساب نہیں دے سکتیں۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ اگر مسلم دنیا سے کوئی معمولی سی خطا ہو جائے تو پوری دنیا کی فوجیں چڑھ دوڑتی ہیں، لیکن اگر اسرائیل انسانیت کا گلا گھونٹ دے تو سب "خاموش تماشائی" بن جاتے ہیں؟
تاریخ کا دھارا بتاتا ہے کہ ایٹم بم، ڈرونز اور ڈالر کسی کو مستقل سپر پاور نہیں بناتے، کیونکہ فرعون اور نمرود کے پاس بھی اپنے دور کی بہترین ٹیکنالوجی تھی، مگر وہ نشانِ عبرت بن گئے۔ اصل سپر پاور وہ ہے جس کے پاس عدل ہے، جس کے پاس اخلاق ہے، اور جو فتح کے تخت پر بیٹھ کر بھی دشمن کے لیے دعا کرے۔
جب تاریخ لکھی جائے گی، تو آپ کا نام کہاں ہوگا؟ ان کے ساتھ جو ظلم پر خاموش رہے، یا ان کے ساتھ جو حق کی پکار بنے؟
No comments:
Post a Comment