Tuesday, April 7, 2026

عالمی بدمعاشوں کی موت اور مردِ مومن کی بے خوفی: اب جاگنے کا وقت ہے! تحریر: ندیم سہیل

عالمی بدمعاشوں کی موت اور مردِ مومن کی بے خوفی | ڈیجیٹل اخلاقیات
بے خوفی · استقامت · توحید

عالمی بدمعاشوں کی موت اور مردِ مومن کی بے خوفی: اب جاگنے کا وقت ہے!

تحریر: ندیم سہیل
"جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں"

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ دورِ حاضر کا فرعون، یعنی امریکی صدر، بار بار ایران کو "تباہ" کرنے کی دھمکیاں کیوں دے رہا ہے؟ وہ کیوں چاہتا ہے کہ پوری دنیا صرف اس کے اشاروں پر ناچے؟ اس کے پاس ایٹم بم تو ہے، لیکن اس کا اصل ہتھیار ایٹم بم نہیں بلکہ "خوف کا نفسیاتی زہر" ہے۔

خوف: استعمار کا نفسیاتی ہتھکنڈہ

خوف کیا ہے؟ خوف دراصل وہ زنجیر ہے جو بدمعاش اور غنڈہ صفت قومیں مظلوموں کے پاؤں میں ڈالتی ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل نے صرف عالمِ اسلام کو ہی نہیں، بلکہ برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسی یورپی قوتوں کو بھی اپنے خوف کا یرغمال بنا رکھا ہے۔ وہ دنیا کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ان کی مخالفت کا مطلب "موت" ہے۔

لیکن وہ بھول گئے کہ جب کوئی قوم یہ سمجھ جاتی ہے کہ اسے خوف کے ذریعے غلام بنایا جا رہا ہے، اور وہ سینہ تان کر اس غنڈہ گردی کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے، تو پھر بڑے سے بڑے سپر پاور کی ہوا نکل جاتی ہے۔ ظلم تب تک زندہ ہے جب تک مظلوم ڈر رہا ہے۔

زندگی اور موت: اللہ کا اختیار یا امریکہ کا؟

اے مسلمانو! کیا ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ ہم نے زندگی اور موت کا فیصلہ اللہ کے بجائے وائٹ ہاؤس کے ہاتھ میں دے دیا؟ یاد رکھو، زندگی اور موت صرف اور صرف اللہ کے قبضے میں ہے۔ جب تک اللہ نے زندگی لکھی ہے، دنیا کا کوئی کافر آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ اور جب وقت آ جائے، تو قلعہ بند دیواریں بھی موت کو نہیں روک سکتیں۔

"وَلَا تَقُولُوا لِمَن يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتٌ ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ وَلَٰكِن لَّا تَشْعُرُونَ"
(سورہ بقرہ: 154)
اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تم ان کی زندگی کا شعور نہیں رکھتے۔

یہ وہ حقیقت ہے جسے پینٹاگون کے کمپیوٹر اور اسرائیل کے میزائل کبھی سمجھ نہیں سکتے۔ ایک مسلمان کے لیے موت فنا نہیں بلکہ بقا ہے۔

شہادت: کامیابی کا آخری درجہ

رسول اللہ ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن بھی پہرہ دیا یا جہاد کیا، اللہ اسے جنت کے اعلیٰ درجات عطا فرمائے گا۔ حدیثِ مبارکہ کے مطابق شہید کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی بخشش کر دی جاتی ہے۔

تو پھر ڈر کیسا؟ اگر دشمن ہمیں مارے گا تو ہم شہید کہلائیں گے، اور اگر ہم نے اسے مار بھگایا تو غازی بنیں گے۔ مسلمان تو وہ ہے جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکراتا ہے، کیونکہ اسے پتہ ہے کہ وہ مر کر بھی زندہ رہے گا۔

ایران، غزہ اور ہمارا اتحاد

آج جب ایران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جب غزہ کے بچوں کا لہو بہایا جا رہا ہے، تو یہ وقت فرقوں میں بٹنے کا نہیں ہے۔ یہ شیعہ، سنی، وہابی کی بحث کا وقت نہیں، بلکہ "لا الہ الا اللہ" کی بنیاد پر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کا وقت ہے۔

برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں مقیم مسلمانوں! آپ کی حکومتیں امریکہ کے خوف سے کانپ سکتی ہیں، لیکن آپ کا ایمان اللہ کی رسی سے جڑا ہونا چاہیے۔

  • ہم اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔
  • ہم غزہ کے مجاہدین کے ساتھ ہیں۔
  • ہم لبنان اور یمن کے مظلوموں کے ساتھ ہیں۔
فیصلہ کن پیغام: اب اٹھو!

اے امتِ مسلمہ کے جوانو! اپنے اندر کے ڈر کو نکال پھینکو۔ یہ بدمعاش ممالک تب تک شیر ہیں جب تک ہم بھیڑ بنے ہوئے ہیں۔ جس دن ہم نے یہ طے کر لیا کہ ہم نے اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکنا، اس دن امریکہ اور اس کے حواری تاریخ کا کوڑا دان بن جائیں گے۔

یاد رکھیں، جو اللہ کی راہ میں مرا، وہی دراصل زندہ ہے، باقی تو محض چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔ ہم ایران اور غزہ کی حمایت میں اپنی جان و مال قربان کرنے کا عہد کرتے ہیں۔

مسلمانو! فرقوں کو چھوڑ دو، اللہ کی رسی کو تھام لو۔ ظالم تب تک طاقتور ہے جب تک تم خاموش ہو۔ اٹھو! کہ وقتِ شہادت ہے قریب، اور فتحِ مبین ہمارا مقدر ہے!
یا اللہ! ہمیں شجاعت عطا فرما، ہمارے دلوں سے کفر کا خوف نکال دے اور امتِ مسلمہ کو متحد کر کے فتح نصیب فرما۔ آمین!

No comments:

Post a Comment