تنقید، اصلاح اور حب الوطنی: کیا ہم مخالفت میں حد سے گزر گئے ہیں؟
پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیشہ سے گرما گرم رہی ہے، لیکن حالیہ دنوں میں سیاسی عصبیت کی ایک ایسی لہر دیکھنے کو ملی ہے جس نے عقل و شعور کے درازے بند کر دیے ہیں۔ تنقید کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن جب یہ تنقید ریاست کی تذلیل اور ملک کی جگ ہنسائی کا ذریعہ بن جائے، تو سوچنا پڑتا ہے کہ کیا ہم اب بھی ایک قوم ہیں یا محض گروہوں میں بٹا ہوا ہجوم؟
اسلامی تعلیمات کے مطابق تنقید کا مقصد "اصلاح" ہونا چاہیے۔ قرآن کریم میں حکم ہے کہ بات کرو تو "قولِ سدید" یعنی سیدھی، سچی اور محکم بات کرو۔ تنقید کا حق اس لیے دیا گیا ہے تاکہ غلطیوں کی نشاندہی ہو اور نظام بہتر ہو، نہ کہ اس لیے کہ کسی کی پگڑی اچھالی جائے یا اپنے ہی ملک کے وقار پر کلہاڑی ماری جائے۔
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
— علامہ اقبال
جب ہم تنقید کرتے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری تنقید کی سرحد وہاں ختم ہو جانی چاہیے جہاں سے ملک کی بدنامی شروع ہوتی ہے۔
حالیہ عالمی تناظر میں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے جو سفارتی کردار ادا کیا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا موقع تھا جہاں دنیا بھر کے میڈیا، ایرانی حکام، اور یہاں تک کہ پاکستان کی اپوزیشن (پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں بشمول بیرسٹر سیف) نے بھی کھلے دل سے اس کا کریڈٹ ریاست اور موجودہ حکام کو دیا۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جس وقت بھارتی صحافی اور سیاستدان پاکستان کی اس "سافٹ پاور" کی تعریف کر رہے ہیں، ہمارے اپنے ہی کچھ بھائی اس قدر بغض میں اندھے ہو چکے ہیں کہ انہیں اس مثبت پیش رفت میں بھی کوئی نہ کوئی کیڑا نکالنا ضروری لگ رہا ہے۔
سیاسی مخالفت میں اس حد تک آگے بڑھ جانا کہ آپ کو اپنے ملک کی ہر کامیابی "فیک" یا "AI Generated" لگنے لگے، ایک ذہنی بیماری کی علامت ہے۔
- حکمرانوں سے اختلاف کریں: آپ کو پورا حق ہے کہ آپ کرپشن، نااہلی یا غلط پالیسیوں پر موجودہ سیٹ اپ کو آڑے ہاتھوں لیں۔
- ریاست کو نشانہ نہ بنائیں: یاد رکھیں، حکمران آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ریاست مستقل ہے۔ اگر پاکستان کی ساکھ بہتر ہو رہی ہے تو اس سے فائدہ کسی ایک پارٹی کا نہیں بلکہ ہر اس شخص کا ہے جس کے پاس سبز پاسپورٹ ہے۔
خدا نہ کرے کہ اپنے ہی گھر کو آگ لگے
جو لوگ ہر اس پوسٹ کے خلاف مہم چلا رہے ہیں جو پاکستان کے حق میں ہے، وہ دراصل دشمن کے ایجنڈے کو انجانے میں تقویت دے رہے ہیں۔ جب آپ اپنے ہی ملک کو ڈی گریڈ (Degrade) کرنا اپنا مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں، تو آپ میں اور سرحد پار بیٹھے دشمن میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟
- حقیقت پسندی اپنائیں: اگر کوئی اچھا کام ہوا ہے تو اسے سراہنا ظرف کی نشانی ہے۔
- سیاست کو عبادت نہ بنائیں: سیاسی لیڈر آپ کے مسیحا ہو سکتے ہیں، لیکن وہ ملک سے بڑے نہیں ہیں۔
- حب الوطنی کا ثبوت دیں: دشمن کی زبان بولنا چھوڑیں اور ملک کی کامیابیوں پر فخر کرنا سیکھیں۔
No comments:
Post a Comment