Tuesday, March 31, 2026

جھوٹ: ایک معاشرتی کینسر اور اس کے جدید فتنے تحریر: ندیم سہیل بمعاونت: مصنوعی ذہانت (AI)

 

جھوٹ کی حقیقت اور شرعی حیثیت

جھوٹ کیا ہے؟ جھوٹ سے مراد کسی بات کو حقیقت کے خلاف بیان کرنا ہے۔ یہ ناصرف اخلاقی پستی ہے بلکہ اسلام میں اسے "تمام برائیوں کی جڑ" اور منافقت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ مومن سے بشری تقاضوں کے تحت خطا ہو سکتی ہے، وہ بزدل یا بخیل ہو سکتا ہے، لیکن وہ کذاب (جھوٹا) نہیں ہو سکتا۔

قرآنِ مجید کی روشنی میں: اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں کو اپنی ہدایت سے محروم اور مستحقِ لعنت قرار دیا ہے:

"بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزرنے والا اور بڑا جھوٹا ہو۔" (سورۃ الغافر: 28

ایک اور جگہ ارشاد فرمایا:

"پس بتوں کی ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے پرہیز کرو۔" (سورۃ الحج: 30)۔ یہاں جھوٹ کو بت پرستی کے ساتھ ذکر کرنا اس کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں: نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"سچائی کو لازم پکڑو کیونکہ سچ نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے، اور جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی آگ تک پہنچا دیتا ہے۔"صحیح بخاری

سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل جھوٹ کے جدید روپ

موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے جھوٹ کو ایک نئی اور خطرناک جہت دے دی ہے۔ اب ایک جھوٹ صرف چند لوگوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔

  1. فیک نیوز (Fake News): بغیر تحقیق کے کسی خبر کو محض لائکس یا شیئرز کے لیے پھیلا دینا جھوٹ کی بدترین قسم ہے۔ حدیث میں آتا ہے: "کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے۔" صحیح مسلم
  2. کلک بیٹ (Clickbait): یوٹیوب یا فیس بک پر گمراہ کن تھمب نیلز اور عنوانات لگانا، تاکہ لوگ کلک کریں، سراسر دھوکہ دہی ہے۔ یہ ناظرین کے وقت کی چوری اور شرعی لحاظ سے ناجائز "غش" (دھوکہ) کے زمرے میں آتا ہے۔
  3. تجارت میں جھوٹ: آن لائن کاروبار میں اپنی مصنوعات کے بارے میں غلط بیانی کرنا یا جعلی ریویوز (Fake Reviews) لکھوانا رزق کی برکت کو ختم کر دیتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔"
  4. سوشل میڈیا کا عذاب: معراج کے واقعے میں آپ ﷺ نے اس شخص کا انجام دیکھا جس کا جبڑا چیرا جا رہا تھا، وہ وہی شخص تھا جو ایسی جھوٹی خبر پھیلاتا تھا جو "آفاق" (دنیا کے کناروں) تک پہنچ جاتی تھی۔ آج ایک "وائرل" جھوٹی پوسٹ اسی وعید کے زمرے میں آتی ہے۔

مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیپ فیک (Deepfake) کا فتنہ

ٹیکنالوجی کے ارتقاء نے "ڈیجیٹل بہتان" کو جنم دیا ہے، جس کی روک تھام اب ہر مسلمان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

  1. ڈیپ فیک (Deepfake): مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی کی آواز یا چہرہ استعمال کر کے جعلی ویڈیو بنانا ناصرف جھوٹ ہے بلکہ یہ بہتانِ عظیم ہے۔ کسی بے گناہ شخص کی عزت اچھالنا اسلام میں کبیرہ گناہ ہے۔ قرآن کا حکم ہے: "جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں... ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے۔" سورۃ النور: 23
  2. اے آئی (AI) اور حقائق کی مسخ: AI کے ذریعے جعلی اعداد و شمار یا تصاویر تخلیق کرنا تاکہ کسی قوم یا گروہ کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا سکے، معاشرے میں فتنہ پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین ہے۔" سورۃ البقرہ: 191
  3. تصدیق کا قرآنی اصول: ڈیجیٹل دور میں ہر مسلمان کو اس قرآنی اصول پر عمل کرنا چاہیے:

"اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو۔" سورۃ الحجرات: 06

وہ مخصوص صورتیں جہاں (مصلحت کے تحت) گنجائش ہے

اسلام ایک دینِ فطرت ہے، اس لیے بعض ایسی سنگین صورتحال جہاں سچ بولنے سے کسی کی جان جا سکتی ہو یا کوئی بڑا فتنہ کھڑا ہو سکتا ہو، وہاں شریعت نے مخصوص حدود میں رہتے ہوئے مصلحت کی اجازت دی ہے۔ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے (صحیح بخاری)۔ علماء کی روشنی میں درج ذیل تین صورتوں میں گنجائش موجود ہے:

  1. میاں بیوی کے درمیان صلح: گھر بچانے اور محبت بڑھانے کی خاطر ایسی بات کرنا جو تلخی کو ختم کر دے۔
  2. دو مسلمانوں میں صلح کروانا: دشمنی ختم کرنے کے لیے فریقین کے بارے میں خیر کی باتیں منسوب کرنا۔
  3. جنگ کے دوران حکمتِ عملی: دشمن سے اپنی جان و مال اور راز محفوظ رکھنے کے لیے چال چلنا۔

تنبیہ: یہ اجازت صرف بڑے شر کو روکنے کے لیے ہے۔ اسے ذاتی مفاد، کاروبار میں دھوکہ دہی، یا کسی کا حق مارنے کے لیے استعمال کرنا قطعاً حرام ہے۔

اختتامیہ

جھوٹ چاہے زبان سے ہو یا ڈیجیٹل آلات (AI) کے ذریعے، اس کا انجام دنیا میں ذلت اور آخرت میں رسوائی ہے۔ ایک مومن کی پہچان اس کی سچائی اور امانت داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ڈیجیٹل زندگی میں بھی وہی سچائی اپنائیں جس کا حکم ہمیں قرآن و سنت نے دیا ہے۔

دعا: اللہ تعالیٰ ہمیں قولِ سدید (سچی بات) کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری زبانوں، قلم اور ڈیجیٹل آلات کو فتنہ و جھوٹ سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

Monday, March 30, 2026

نیکیوں کی ڈکیتی: مردہ بھائی کا گوشت کب تک؟ تحریر: ندیم سہیل

 


نیکیوں کی ڈکیتی: مردہ بھائی کا گوشت کب تک؟

تحریر: ندیم سہیل

قیامت کے دن جب میزانِ عدل قائم ہوگا، تو بہت سے لوگ اپنی نمازوں، روزوں اور حج کے انبار لے کر آئیں گے۔ وہ اپنی نیکیوں پر مطمئن ہوں گے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیکیاں دوسروں کے نامہ اعمال میں منتقل ہونا شروع ہو جائیں گی۔ وہ شخص اللہ کی عدالت میں "مفلس" قرار دیا جائے گا جس نے دنیا میں اپنی زبان سے دوسروں کی عزتوں پر ڈاکے ڈالے تھے۔

کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ جس زبان سے ہم کلمہ پڑھتے ہیں، وہی زبان کسی کے مردہ بھائی کا گوشت نوچنے کا آلہ کیسے بن جاتی ہے؟

غیبت کی تعریف: فرمانِ نبوی ﷺ کی روشنی میں

ہمارے پیارے نبی ﷺ نے غیبت کی جو تعریف بیان فرمائی، وہ ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟" انہوں نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہارا اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرنا جو اسے ناگوار گزرے۔" کسی نے عرض کیا: اگر میرے بھائی میں وہ عیب موجود ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر وہ عیب اس میں موجود ہے تو ہی تو تم نے اس کی غیبت کی، اور اگر وہ عیب اس میں نہیں ہے (جو تم بیان کر رہے ہو) تو تم نے اس پر بہتان باندھا۔" (صحیح مسلم: 2589)

غیبت: قرآن کی کڑی تنبیہ

اللہ رب العزت نے غیبت کی شناعت اور اس کی گندگی کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ پس تم اس سے نفرت کرتے ہو" (سورۃ الحجرات: 12)

غیبت صرف ایک عام گناہ نہیں، بلکہ ایک ایسی "گھناؤنی جبلت" ہے جو انسان کو درندگی کی سطح پر لے آتی ہے۔ جب ہم کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنی اخلاقی موت کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں۔

سیاستدان اور مذہبی رہنما: کیا ان کی غیبت جائز ہے؟

آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم جن حکمرانوں، سیاستدانوں یا مذہبی رہنماؤں سے سیاسی یا نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں، ان کی برائی کرنا، ان پر بلا تحقیق الزامات لگانا اور ان کا تمسخر اڑانا ہم اپنا "حق" اور "ثواب" سمجھتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک ہولناک حقیقت چھپی ہے:

  • اپنے دشمن کا فائدہ: کیا آپ جانتے ہیں کہ جب ہم کسی حکمران یا لیڈر کی پیٹھ پیچھے برائی (غیبت) کرتے ہیں یا اس پر بہتان باندھتے ہیں، تو ہم اپنی قیمتی نیکیاں اس شخص کے نامہ اعمال میں منتقل کر رہے ہوتے ہیں جس سے ہمیں سخت نفرت ہے۔
  • خالی ہاتھ رہ جانے کا ڈر: کہیں ایسا نہ ہو کہ جن لوگوں کو ہم ملک و قوم کا لٹیرا سمجھتے ہیں، کل قیامت کے دن وہ ہماری نیکیوں کے مالک بن کر بیٹھ جائیں اور ہم بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں۔ ہم ان کی غیبت کر کے دراصل ان کا بوجھ ہلکا اور اپنا بوجھ بڑھا رہے ہوتے ہیں۔
  • بہتان کی ہولناکی: اگر وہ برائی اس شخص میں موجود نہ ہو جو ہم بیان کر رہے ہیں، تو یہ بہتان ہے، جس کا عذاب غیبت سے بھی شدید ہے۔ سوشل میڈیا پر سنی سنائی باتوں کو شیئر کرنا اسی زمرے میں آتا ہے۔

کلمہ حق بمقابلہ غیبت: فرق پہچانیں

بہت سے لوگ غیبت کو "سیاسی شعور" یا "حق گوئی" کا نام دیتے ہیں۔ یاد رکھیں، اسلام نے ان دونوں میں واضح فرق رکھا ہے:

  1. کلمہ حق: حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق "افضل جہاد جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے"۔ یعنی حق بات وہ ہے جو حاکم کے سامنے اس کی اصلاح کے لیے کہی جائے، نہ کہ چائے خانوں یا فیس بک کی دیواروں پر اس کی ذاتی زندگی کا تماشہ بنایا جائے۔
  2. حقیقت جانیے: تعمیری تنقید اور غیبت میں فرق ہے۔ پالیسیوں پر بات کرنا الگ ہے، لیکن کسی کی ذات، خاندان یا پوشیدہ عیبوں کو اچھالنا سراسر غیبت ہے جو آپ کی آخرت برباد کر دے گی۔

غیبت کی وہ صورتیں جو (شرعی طور پر) جائز ہیں

اسلام ایک عملی دین ہے، اس لیے بعض مخصوص حالات میں کسی کی برائی بیان کرنے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے:

  • مظلوم کی دہائی: اگر کسی پر ظلم ہوا ہو، تو وہ ظالم کا نام لے کر اتھارٹی کے سامنے شکایت کر سکتا ہے۔
  • اصلاح کی نیت: کسی ایسے شخص کو بتانا جو اس برائی کو روکنے کی طاقت رکھتا ہو (مثلاً والدین کو بتانا تاکہ وہ بچے کی اصلاح کریں)۔
  • مشورہ مانگنے پر: اگر کوئی کسی سے شادی یا کاروبار کا ارادہ رکھتا ہو اور آپ سے مشورہ مانگے، تو سچی بات بتانا جائز بلکہ ضروری ہے تاکہ وہ دھوکہ نہ کھائے۔
  • اعلانیہ گناہ کرنے والا: جو شخص سرِ عام گناہ کرتا ہو اور اسے چھپاتا نہ ہو، اس کے اس گناہ کا تذکرہ تاکہ لوگ اس کے شر سے بچ سکیں۔

آئیے اپنی نیکیوں کی حفاظت کریں

دوستو! ہم تسبیح بھی پڑھتے ہیں اور غیبت بھی کرتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک ہاتھ سے برتن میں دودھ ڈالنا اور دوسرے ہاتھ سے نیچے سوراخ کر دینا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آخرت کی کمائی محفوظ رہے، تو ہمیں اپنی زبان اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر پہرہ بٹھانا ہوگا۔

آج ہی ان تمام لوگوں سے معافی مانگ لیں جن کی ہم نے کبھی غیبت کی، کیونکہ اللہ کے دربار میں توبہ تب ہی قبول ہوگی جب بندہ راضی ہوگا۔ جیو بھائیو! مگر حقیقت جان کر، تاکہ کل ہمیں اپنے دشمنوں کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔

اللہ ہم سب کو زبان کے فتنوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔


دفاعِ اسلام اور عصرِ حاضر: خودداری اور تیاری کا راستہ تحریر: ندیم سہیل

 


آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر ڈالتے ہیں، تو ایک طرف ٹیکنالوجی کا غرور نظر آتا ہے اور دوسری طرف جذبہِ ایمانی کی حرارت۔ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے امتِ مسلمہ کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں خاموشی کا مطلب اپنی تباہی پر دستخط کرنا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں پاکستان اور ایران کا کردار ایک روشن مینار کی طرح ابھرا ہے، جس سے پوری مسلم دنیا کو سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔

قرآنی فلسفہ: "قوت" امن کی ضمانت ہے

قرآنِ کریم نے 14 سو سال پہلے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملانے کا نسخہ بتا دیا تھا۔ سورہ الانفال کی آیت 60 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور ان کے لیے جتنا ہو سکے طاقت تیار کرو اور گھڑ سواروں کا انتظام کرو تاکہ تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن کو... ڈرا سکو۔"

یہاں "قوت" سے مراد ہر دور کا جدید ترین اسلحہ ہے۔ ایران نے گزشتہ 40 سالوں سے عالمی پابندیوں کی آگ میں تپ کر خود کو کندن بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر ارادہ مضبوط ہو تو معاشی محاصرے آپ کی پرواز نہیں روک سکتے۔ آج ایران کے ڈرونز اور میزائل ٹیکنالوجی نے صیہونی ریاست کے دفاعی نظام کے پرخچے اڑا کر ثابت کر دیا کہ "تیاری" ہی اصل دفاع ہے۔

مئی 2025: پاک فضائیہ کا تاریخی معرکہ اور بھارتی غرور کا خاتمہ

پاکستان کی تاریخ عسکری معجزوں سے بھری پڑی ہے، لیکن مئی 2025 کا فضائی معرکہ (Dogfight) تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ جب بھارت نے ایک بار پھر اپنی سرحدوں سے تجاوز کرنے کی کوشش کی، تو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے وہ کر دکھایا جس کی مثال جدید جنگی تاریخ میں نہیں ملتی۔

اس معرکے میں پاک فضائیہ نے بھارت کے 6 جدید ترین جنگی طیاروں کو فضا ہی میں راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ نہ صرف یہ، بلکہ پاکستان نے اپنی جدید ترین الیکٹرانک وارفیئر ٹیکنالوجی کے ذریعے بھارت کے نام نہاد ناقابلِ تسخیر 'ایئر ڈیفنس سسٹم' کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔ یہ کامیابی صرف جہازوں کی نہیں تھی، بلکہ اس مہارت اور "تیاری" کی تھی جس کا حکم حدیثِ نبوی ﷺ میں دیا گیا ہے: "جنگ کی تیاری کی مشق کرو جیسے تم روزہ اور نماز کی مشق کرتے ہو" (صحیح مسلم)۔

اسرائیل، امریکہ اور "Absolutely Not" کا پیغام

پاکستان اور ایران کا مشترکہ خاصہ ان کی غیرت مندانہ سفارت کاری ہے۔ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے دو ٹوک انکار اور امریکہ کے سامنے "Absolutely Not" کہنا، دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ ہم صرف اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔ یہ وہی جرات ہے جو ایران دکھا رہا ہے۔ اس کے برعکس، عرب دنیا وسائل کی ریل پیل کے باوجود ذلت اور رسوائی کا شکار کیوں ہے؟ اس کی بڑی وجہ قرآنی تعلیمات سے دوری اور اغیار کے اسلحے پر انحصار ہے۔

حدیثِ مبارکہ ہے: "طاقتور مومن اللہ کو کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے"۔ جب تک عرب ممالک اپنی دولت کو دفاعی خود انحصاری کے بجائے تعیشات پر خرچ کریں گے، وہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکیں گے۔

حاصلِ کلام: وقتِ بیداری

آج وقت کا تقاضا ہے کہ پوری مسلم دنیا پاکستان کی عسکری مہارت اور ایران کی استقامت سے سیکھے۔ اگر پاکستان محدود وسائل میں رہ کر 6 بھارتی طیارے گرا سکتا ہے اور ایران دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود اسرائیل کو لرزہ براندام کر سکتا ہے، تو پورے عالمِ اسلام کا اتحاد کیا کچھ نہیں کر سکتا؟

ذلت کا راستہ "انحصار" ہے اور عزت کا راستہ "تیاری" ہے۔ مئی 2025 کے معرکے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اب جنگیں صرف تعداد سے نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی، ایمان اور بروقت تیاری سے جیتی جاتی ہیں۔ اللہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور اپنی "قوت" کو مجتمع کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

Saturday, March 28, 2026

کٹی ہوئی پتنگ: ادھوری اڑان تحریر: ندیم سہیل

 

وہ شام کتنی دلفریب تھی، ہواؤں میں ایک عجیب سی سرگوشی تھی جو کانوں میں رس گھول رہی تھی۔ زویا کھڑکی کے پاس کھڑی باہر پھیلی وسعتوں کو دیکھ رہی تھی جہاں پرندے بے فکری سے اڑ رہے تھے۔ اسے لگا کہ اس کے پیروں میں بندھی محبت کی زنجیریں اسے ان بلندیوں تک پہنچنے سے روک رہی ہیں۔ اسے اپنے والد کی بار بار کی نصیحتیں، بھائی کی فکر بھری نظریں اور شوہر کا وہ ٹوکنا کہ "دیر ہو گئی ہے، گھر آ جاؤ" ایک بوجھ محسوس ہونے لگا۔ اسے لگا کہ وہ ایک قیدی ہے جس کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔

پھر وہ وقت آیا جب اس نے ایک زوردار جھٹکے کے ساتھ وہ ڈور کاٹ دی جو اسے برسوں سے تھامے ہوئے تھی۔ اسے لگا کہ آج وہ پہلی بار آزاد ہوئی ہے۔ وہ ہوا کے دوش پر رقص کرنے لگی، بادلوں کو چھونے کے خواب دیکھنے لگی۔ بلندی کا وہ نشہ ایسا تھا کہ اسے نیچے کھڑے اپنے پیاروں کے چہرے دھندلے نظر آنے لگے۔ اسے لگا کہ اب وہ جہاں چاہے جا سکتی ہے، کوئی اسے کھینچنے والا نہیں، کوئی اسے روکنے والا نہیں۔

لیکن جیسے ہی ہوا کا رخ بدلا، منظر بدل گیا۔ بغیر ڈور کی وہ پتنگ جو اب تک فخر سے اڑ رہی تھی، اچانک لڑکھڑانے لگی۔ اسے احساس ہوا کہ اس کے پاس اپنی کوئی سمت (Direction) نہیں ہے۔ وہ بلند تو تھی، مگر بے بس تھی۔ ہوا اسے کبھی ایک دیوار سے ٹکراتی تو کبھی کسی نوکیلے تار میں پھنسا دیتی۔ جن گلیوں کو وہ اوپر سے حسین سمجھ رہی تھی، وہاں اب شکاری نظریں اس کے گرنے کا انتظار کر رہی تھیں۔ ہر وہ ہاتھ جو اسے پکڑنے کے لیے بڑھا، اس میں اسے تھامنے کی تڑپ نہیں بلکہ اسے "لوٹنے" کی ہوس تھی۔ وہ جو کبھی وقار کے ساتھ آسمان کا سینہ چیر رہی تھی، اب ایک "کٹی ہوئی پتنگ" بن چکی تھی جسے گلی کے آوارہ لڑکے چھیننے کے لیے ایک دوسرے پر جھپٹ رہے تھے۔

جب وہ بے جان ہو کر مٹی میں گری، تو اسے وہ ہاتھ یاد آئے جو پسِ پردہ رہ کر اسے بلندی پر برقرار رکھتے تھے۔ اسے سمجھ آیا کہ وہ ڈور اسے قید کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسے توازن دینے کے لیے تھی۔ وہ "چیک اینڈ بیلنس" جو اسے پابندی لگتا تھا، دراصل اسے ان شکاریوں سے بچانے والی ڈھال تھی۔

کٹی ہوئی پتنگ کا ماتم

میری عزیز بہنو! زندگی کے اس سفر میں باپ، بھائی، شوہر اور بیٹا اس چرخی (Nut/Spool) کی مانند ہیں جو آپ کے وقار کی ڈور کو تھامے رکھتے ہیں۔ جب تک آپ اس ڈور سے جڑی ہیں، آپ آسمان کی زینت ہیں، آپ کا ایک مقام ہے، ایک عزت ہے۔ جس دن آپ اس ڈور کو بوجھ سمجھ کر کاٹ دیں گی، آپ آزاد تو ہو جائیں گی مگر آپ کی حیثیت اس کٹی ہوئی پتنگ جیسی ہو جائے گی جو ہوا کے تھمتے ہی زمین پر تذلیل کے لیے پھینک دی جاتی ہے۔ اپنی قدر کیجیے اور ان رشتوں کو بوجھ نہیں، اپنی اڑان کی مضبوطی سمجھیے، کیونکہ بے سمت اڑان اکثر عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔

 


Friday, March 27, 2026

بسم اللہ: قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مکمل تحقیقی مقالہ تحریر: ندیم سہیل

 




مقدمہ

اسلام میں ہر نیک عمل کی ابتدا اللہ کے نام سے کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ سب سے مشہور جملہ جو مسلمان ہر عمل کی ابتدا میں ادا کرتے ہیں، وہ ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
یہ جملہ نہ صرف زبان کا اظہار ہے بلکہ روحانی قوت، برکت اور حفاظت کا ذریعہ بھی ہے۔ قرآن و سنت میں بسم اللہ کے فوائد اور برکتوں کا بارہا ذکر آیا ہے، اور متعدد قرآنی اور حدیثی کہانیاں اس کی حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔

۱. بسم اللہ کا معنوی اور روحانی مفہوم

لفظ بسم اللہ تین اجزاء پر مشتمل ہے:

  1. بِسْمِ: کے نام سے، یعنی کسی عمل کی ابتداء
  2. اللہ: واحد، کامل، لا محدود ذات خدا
  3. الرحمن الرحیم: اللہ کی دو اہم صفتیں جو رحم اور شفقت کی علامت ہیں

معنوی طور پر:

"میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، جو نہایت مہربان اور رحم والا ہے"۔

روحانی طور پر، یہ جملہ انسان کی نیت کو صاف کرتا ہے اور ہر عمل میں اللہ کی مدد اور حفاظت شامل کرتا ہے۔

۲. قرآن میں بسم اللہ کی اہمیت

  1. قرآن کی ہر سورۃ (سورۃ التوبہ کے علاوہ) بسم اللہ سے شروع ہوتی ہے۔
  2. سورۃ الفاتحہ کی ابتدا بسم اللہ سے ہوتی ہے:

"بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ"
(
سورۃ الفاتحہ، آیت 1)
یہ نماز کی بنیاد ہے اور روزانہ کی عبادت میں برکت کا ذریعہ ہے۔

  1. سورۃ النساء میں حضرت آسیہ کی دعا کا ذکر ہے:

"رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ"
یہ دعا حضرت آسیہ کے ایمان اور اللہ کے نام سے عمل شروع کرنے کی بہترین مثال ہے۔

  1. قرآن میں اللہ فرماتا ہے:

"وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً"
یعنی اللہ کے نام سے ہر عمل میں خشوع اور توجہ پیدا ہوتی ہے۔

۳. احادیث میں بسم اللہ

  1. حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

"إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ بسم الله"

  1. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

"كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَسْمِ اللَّهِ يُوَفَّقُ لَهُ"

  1. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ہر عمل سے پہلے بسم اللہ کہتے تاکہ برکت اور حفاظت شامل ہو۔

۴. بسم اللہ کی برکتوں کی قرآنی کہانیاں

(الف) حضرت آسیہ، فرعون کی بیوی

حضرت آسیہ (رضی اللہ عنہا) فرعون کی بیوی تھیں، مگر خود نیک اور ایمان والی تھیں۔ سخت حالات میں انہوں نے اللہ کے نام سے ہر عمل کی ابتدا کی اور دعا کی:

"رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ"
ان کے صبر اور ایمان کے نتیجے میں اللہ نے انہیں جنت کی اعلیٰ مقام عطا فرمائی۔

(ب) حضرت یوسف علیہ السلام

حضرت یوسف علیہ السلام نے مشکل حالات میں بھی ہر عمل کی ابتدا اللہ کے نام سے کی۔ قید، فتنے اور دیگر مشکلات میں انہوں نے ہمیشہ بسم اللہ کہا اور اللہ کی مدد سے کامیاب ہوئے۔

(ج) حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام

فرعون کے خلاف اللہ کا حکم ادا کرتے ہوئے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام نے ہر عمل اللہ کے نام سے شروع کیا، تاکہ اللہ کی مدد اور حفاظت شامل ہو۔

(د) صحابہ کرام کی روزمرہ زندگی

صحابہ کرام کھانے پینے، سفر یا کام کی شروعات بسم اللہ سے کرتے اور ہر عمل کی کامیابی اور برکت اسی نام سے طلب کرتے۔

۵. ہر سورۃ میں بسم اللہ کے اثرات

  • قرآن کی ہر سورۃ (التوبہ کے علاوہ) بسم اللہ سے شروع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کے نام سے شروعات ہر عمل میں برکت لاتی ہے۔
  • یہ انسان کے دل کو اللہ کی یاد میں مرکوز کرتی ہے اور ہر عمل کی کامیابی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
  • سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق، اور سورۃ الناس میں بھی بسم اللہ کی ابتداء روحانی تحفظ اور شیطانی اثرات سے بچاؤ کا سبب ہے۔

۶. روزمرہ زندگی میں بسم اللہ کے عملی اثرات

  1. کھانے پینے میں: بسم اللہ کہنا نہ صرف برکت کا سبب ہے بلکہ جسمانی اور روحانی سکون بھی دیتا ہے۔
  2. سفر میں: بسم اللہ کہنا سفر کی حفاظت اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔
  3. کاروبار اور کام میں: بسم اللہ کے ساتھ شروعات کرنے سے کاروبار میں برکت اور نیت میں خلوص پیدا ہوتا ہے۔
  4. تعلیم و عبادت میں: طلبہ اور مسلمان ہر نیک عمل میں بسم اللہ پڑھ کر اللہ کی مدد طلب کرتے ہیں۔

۷. بسم اللہ کے روحانی فوائد

  • روحانی سکون: دل کو اللہ کے ذکر کے ساتھ مطمئن کرتا ہے۔
  • اللہ کی حفاظت: ہر نیک عمل میں شیطانی اثرات سے بچاتا ہے۔
  • کامیابی اور برکت: ہر کام جو اللہ کے نام سے شروع کیا جائے، اللہ کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔
  • نفسیاتی اثر: ذہنی توجہ اور نیت صاف کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

۸. نتیجہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے روحانی طاقت، برکت، کامیابی اور حفاظت کا ذریعہ ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں واضح ہے کہ ہر عمل کی شروعات اللہ کے نام سے کرنا ایمان، برکت اور حفاظت کا بہترین طریقہ ہے۔
قرآنی کہانیاں اور احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ بسم اللہ نہ صرف نیک اعمال میں بلکہ ہر مشکل حالات میں کامیابی اور اللہ کی مدد کا ذریعہ ہے۔

حوالہ جات

  1. قرآن کریم، سورۃ الفاتحہ، آیت 1
  2. قرآن کریم، سورۃ النساء، آیت 64 (حضرت آسیہ)
  3. صحیح البخاری، کتاب الادب، حدیث 5555
  4. صحیح مسلم، کتاب الذکاء، حدیث 2742
  5. القرطبی، الجامع لأحکام القرآن، مکہ: مطبعة العلوم، 2001
  6. ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر، جلد 2، مکہ: مطبعة العلوم، 2000